اندھی کھڑکی – حصہ سوم: آخری سایہ
فریحہ کی گمشدگی نے سب کو چونکا دیا۔ وہ اسکول گئی تھی مگر واپس نہ لوٹی۔ لوگ سمجھے شاید نوکری چھوڑ کر چلی گئی ہو، لیکن کچھ نے قسم کھا کر کہا:
"ہم نے رات 3 بجے اسکول کی چھت پر ایک عورت کو چلتے دیکھا ہے۔۔۔ وہ فریحہ تھی۔۔۔"
پولیس نے اسکول کا معائنہ کیا، مگر کوئی ثبوت نہ ملا۔ بس ایک بات واضح تھی — گھنٹی اب ہر رات 3 بجے بجتی تھی۔
"ریحان" — فریحہ کا بھائی، ایک نوجوان وکیل، اپنی بہن کی گمشدگی پر خاموش نہ رہ سکا۔ اس نے فیصلہ کیا:
"جب تک فریحہ نہ ملے، میں یہ اسکول بند نہیں ہونے دوں گا۔۔۔"
ریحان نے اسکول کا پرمٹ حاصل کیا اور رات کے وقت وہاں گیا، اکیلا۔
دروازہ خودبخود کھلا۔ اندر داخل ہوتے ہی اسے لگا جیسے ہوا میں نمی کے بجائے کوئی سانسیں بند ہیں۔ سب کچھ ساکت، مگر دیوار پر ایک نیا جملہ لکھا تھا:
"ٹیچر آئی تھی، اب بھائی آیا ہے۔۔۔ کیا وہ بھی کلاس میں بیٹھے گا؟"
ریحان نے فون سے لائٹ جلائی۔ پرانا ہال، وہی زنگ آلود گھنٹی۔ گھڑی میں وقت تھا: 2:58
ریحان نے ویڈیو بنانا شروع کی — کہ اچانک بادل گرجے، دروازے بند ہو گئے، اور گھنٹی بجی:
"ڈن۔۔۔ ڈن۔۔۔ ڈن۔۔۔"
ریحان کو ایک دروازہ کھلا ملا — وہی کمرہ جہاں پہلے فریحہ گئی تھی۔ اندر داخل ہوتے ہی ہر کرسی پر ایک بچہ نظر آیا، آنکھیں خالی، ہاتھوں میں پرانے بکسے۔
درمیان میں فریحہ کھڑی تھی — مردہ آنکھیں، چہرہ زرد، آواز میں سرد مہری:
"ریحان۔۔۔ تم دیر سے آئے ہو۔۔۔ تمہارا نام رجسٹر میں تھا۔۔۔ اب بیٹھ جاؤ۔۔۔"
ریحان نے چیخا: "فریحہ! پہچانو مجھے! میں تمہیں لینے آیا ہوں!"
لیکن فریحہ کے چہرے پر ایک دم خوف آیا، جیسے وہ کچھ کہنا چاہتی ہو — تبھی مسز ناہید نمودار ہوئی، اس بار بہت قریب سے — چہرہ آدھا جلا ہوا، آواز میں راکھ:
"کسی کو واپس نہیں لے جا سکتے۔۔۔ جو کلاس میں آتا ہے، وہ رجسٹر کا حصہ بن جاتا ہے۔۔۔"
ریحان بھاگا، مگر اسکول کی دیواریں بدل گئیں۔ راستے غائب، دروازے مٹ گئے۔ وہ چیختا رہا، دوڑتا رہا — پھر اندھیرے میں ڈوب گیا۔
صبح پولیس آئی تو اسکول میں ایک نیا کمرہ کھل چکا تھا — "Legal Studies – Miss Fareeha, Assistant: Rehan"
اب اسکول کے اندر روز نئی کرسی لگتی ہے۔
جو بھی اندر قدم رکھتا ہے، وہ کہیں رجسٹر میں شامل ہو جاتا ہے۔
کچھ لوگوں نے آج بھی اسکول کے پاس سے گزرتے ہوئے کسی کو زور زور سے "حاضری" لیتے سنا ہے۔
"ثنا؟"
"حاضر۔۔۔"
"ریحان؟"
"...حاضر۔۔۔"
Comments
Post a Comment