اندھی کھڑکی – حصہ سوم: آخری سایہ
کہتے ہیں کہ بددعا دل سے نکلے تو لگتی ضرور ہے، مگر کوئی یہ نہیں جانتا کہ سب سے زیادہ اثر رکھنے والی بددعائیں وہ ہوتی ہیں جو زبان سے نہیں، آنکھوں سے نکلتی ہیں۔ وہ دعائیں جو الفاظ میں نہیں ڈھلتیں، مگر بہتے آنسوؤں میں گھل کر فضا میں تحلیل ہو جاتی ہیں۔
کبھی کسی کو روتا دیکھا ہے؟ وہ آنکھیں جو اپنی روشنی کھو چکی ہوں، وہ چہرہ جس پر صبر کی زبردستی مسکراہٹ سجائی گئی ہو، وہ ہونٹ جو کچھ کہنا چاہتے ہیں مگر خاموشی کے تالے میں جکڑے ہوں— ایسا شخص جب آنکھیں بند کر کے گہری سانس لیتا ہے، تو درحقیقت وہ دنیا کے سب سے خطرناک لمحے سے گزر رہا ہوتا ہے۔ کیونکہ اُس لمحے اُس کے آنسو غیر ارادی بددعائیں بن
رہے ہوتے ہیں۔
یہ وہ بددعائیں نہیں جو غصے میں دی جاتی ہیں، نہ وہ جو انتقام کے جذبے سے بھری ہوتی ہیں۔ یہ وہ آہیں ہیں جو کسی کی بے وفائی، کسی کی بے حسی، کسی کے ظلم یا کسی کی دی گئی اذیت کے نتیجے میں خودبخود نکلتی ہیں۔
یہ وہ خاموش فریادیں ہیں جو زبان کی قید سے آزاد ہو کر براہِ راست رب تک پہنچتی ہیں۔ اور شاید اسی لیے ان کا اثر سب سے زیادہ ہوتا ہے
۔
کسی مظلوم کے بہتے آنسو، کسی مجبور ماں کی خاموش آہیں، کسی ٹوٹے دل کی سسکیاں— یہ سب آسمان پر لکھی جانے والی وہ
سطریں ہیں جو وقت آنے پر مقدر کی کتاب میں درج ہو جاتی ہیں۔ کسی کو زندگی میں وہی دکھ دے جاتی ہیں جو اس نے کسی اور کو دیا تھا، کسی کے سجدے رائیگاں ہو جاتے ہیں، اور کسی کا غرور مٹی میں مل جاتا ہے۔
اس لیے اگر کبھی کسی کی آنکھوں میں نمی دیکھو، تو اسے نظر انداز نہ کرو۔
کیونکہ کچھ آنسو محض پانی نہیں ہوتے،
یہ غیر ارادی بددعائیں ہوتے ہیں،
جو مانگی نہیں جاتیں، مگر پوری ہو جاتی ہیں۔
Comments
Post a Comment