اندھی کھڑکی – حصہ سوم: آخری سایہ
ارحم، ایک کال سینٹر ایجنٹ، ایک پراسرار نمبر پر کال کرتا ہے:
اور غائب ہو جاتا ہے۔
اس کی کولیگ نیہا اس کی تلاش میں بیسمنٹ جاتی ہے… اور وہ بھی لاپتہ ہو جاتی ہے۔
اب کہانی جاری ہے…
دو مہینے بعد
دفتر میں سب کچھ معمول پر تھا۔ لیکن ایک نئی بھرتی ہوئی تھی — زریاب۔
نوجوان، تجسس پسند، اور سائبر سکیورٹی کا طالبعلم۔ وہ جلد ہی نوٹس کرنے لگا کہ ارحم اور نیہا کی کرسیوں کو کوئی نہیں چھوتا۔
وہ بارہا سنتا کہ:
"وہ دونوں ایک کال کے بعد غائب ہوئے… بس فون تھا، اور اندھیرا۔"
زریاب کو تجسس ہوا۔ اس نے پرانے لاگز نکالے۔
پرانے فون ریکارڈز۔
پرانے CCTV فوٹیج۔
اور پھر وہ نمبر سامنے آیا:
ایک ایسا نمبر جو "غیر موجودہ مگر فعال" شو ہوتا تھا۔
زریاب نے ایک فیصلہ کیا:
"یا تو یہ سب جھوٹ ہے… یا میں اسے ختم کر سکتا ہوں۔"
رات کے وقت، جب سب جا چکے تھے، زریاب نے سسٹم میں جا کر وہی نمبر ڈائل کیا…
فون بجا۔
ایک… دو… تین بار۔
پھر کسی نے اٹھایا۔
"تمہیں بھی جاننا ہے نا حقیقت؟"
زریاب بولا: "میں ارحم اور نیہا کو واپس لانے آیا ہوں!"
دوسری طرف خاموشی چھا گئی… پھر اچانک ایک ہنسی۔
"کوئی واپس نہیں آتا… لیکن تم آ سکتے ہو…"
اس لمحے کمپیوٹر اسکرین بند ہو گئی۔ پورا دفتر اندھیرے میں ڈوب گیا۔
فون خود بخود زمین پر گرا… اور دروازہ خود بخود بیسمنٹ کی طرف کھلنے لگا۔
زریاب نے اپنے بیگ سے چھوٹا ٹارچ نکالا، اور نیچے اترنے لگا۔
ہر قدم پر جیسے کوئی سایہ قریب آ رہا ہو۔
نیچے پہنچا تو کچھ عجیب سا منظر تھا۔
ایک آئینہ، ایک فون، اور دو سایے…
atOptions = { 'key' : 'e76d8f7238fea9e917391cf1ae0fea86', 'format' : 'iframe', 'height' : 90, 'width' : 728, 'params' : {} };
نیہا اور ارحم کے دھندلے وجود۔
ان کے چہرے بےجان، آنکھیں خالی، اور آواز دھیمی:
"ہم پھنس چکے ہیں… وہ روح ہمیں پکڑ چکی ہے۔ یہ بیسمنٹ ایک دروازہ ہے… ایک ایسی دنیا کا جو ‘کال’ کے ذریعے کھلتی ہے۔”
زریاب نے پوچھا: "کون ہے وہ؟ یہ سب کیوں ہو رہا ہے؟"
پھر وہ سایہ نمودار ہوا۔
لمبا، کالے دھوئیں جیسا جسم، کوئی چہرہ نہیں، صرف روشنیوں میں لرزتا ایک وجود۔
"میں وہ ہوں جو سنے بغیر سنا جاتا ہوں۔ جسے بلاؤ گے تو آؤں گا… اور کبھی واپس نہیں جاؤں گا۔ تم لوگوں نے مجھے جگا دیا ہے، اب سب میری دنیا میں آؤ گے۔"
زریاب پیچھے ہٹا، لیکن آئینے میں کچھ چمکا۔
آئینے کے اندر ایک چھوٹا سا دروازہ تھا۔
دروازے پر لکھا تھا: "Disconnect to Escape"
زریاب نے جھٹ سے نیچے رکھا فون اٹھایا، اور ڈس کنیکٹ بٹن دبایا۔
اچانک سب کچھ ہلنے لگا۔
سایہ چیخنے لگا۔
آئینہ ٹوٹنے لگا۔
نیہا اور ارحم کے جسم روشنی میں تبدیل ہونے لگے۔
ایک زوردار جھٹکا… اور سب کچھ ختم ہو گیا۔
دفتر کھلا۔
ارحم، نیہا اور زریاب تینوں بے ہوش حالت میں بیسمنٹ سے ملے۔
پولیس نے ان سب کو اسپتال منتقل کیا۔
تین دن بعد، ہوش میں آنے کے بعد زریاب نے صرف ایک فقرہ کہا:
"کبھی کسی نامعلوم نمبر کو کال مت کرنا… کیونکہ کچھ کالز… کبھی بند نہیں ہوتیں۔"
کہا جاتا ہے وہ نمبر اب بھی کہیں ہے…
لیکن اب جو بھی اسے کال کرتا ہے…
کال نہیں لگتی…
بس ایک پیغام آتا ہے:
Comments
Post a Comment