اندھی کھڑکی – حصہ سوم: آخری سایہ
گاؤں کے کنارے پرانی سی ایک حویلی تھی جسے سب "خوفناک حویلی" کے نام سے جانتے تھے۔ یہ حویلی سو سال پرانی تھی اور اس کے بارے میں مشہور تھا کہ وہاں جنات کا سایہ ہے۔ دن میں بھی کوئی وہاں جانے کی ہمت نہ کرتا۔
علی ایک نوجوان طالبعلم تھا جو شہر سے اپنے دادا کے گاؤں آیا تھا۔ اسے ان کہانیوں پر یقین نہ تھا۔ ایک شام اس نے دادا سے حویلی کے بارے میں پوچھا۔
دادا نے سرد آہ بھری، "بیٹا، وہ حویلی کبھی ہمارے بزرگوں کی تھی۔ پر ایک رات کچھ ایسا ہوا کہ سب کچھ بدل گیا۔ تم وہ قصہ نہ چھیڑو تو بہتر ہے۔"
علی کی تجسس بڑھ گئی۔ اس نے تہیہ کیا کہ وہ خود جا کر دیکھے گا کہ اصل ماجرا کیا ہے۔
اگلی رات چاندنی چمک رہی تھی۔ علی نے ٹارچ لی، ایک نوٹ بک، اور اپنے موبائل کے ساتھ حویلی کی طرف روانہ ہوا۔ راستہ سنسان تھا۔ دروازے پر زنگ آلود تالا لگا تھا، لیکن ایک طرف سے دیوار ٹوٹی ہوئی تھی۔ وہ اندر گھس گیا۔
حویلی کے اندر عجیب سی خاموشی تھی، جیسے وقت تھم گیا ہو۔ ایک کمرہ تھا جہاں دیوار پر پرانی تصویریں لٹک رہی تھیں۔ اچانک علی کی نظر ایک تصویر پر جا ٹھہری۔ وہ تصویر کسی پرانے بزرگ کی تھی، اور نیچے لکھا تھا "نواب ضیاء الدین – 1901"۔
اچانک ایک آہٹ سنائی دی۔ علی پلٹا تو ایک پرانا سا صندوق دیکھا۔ وہ آہستہ سے کھولا، تو اندر ایک پرانی ڈائری ملی۔ اس پر لکھا تھا "ضیاء الدین کی ڈائری"۔
علی نے وہیں بیٹھ کر پڑھنا شروع کیا۔ ڈائری میں لکھا تھا:
"آج میں نے ایک راز دریافت کیا ہے۔ میرے نوکر نعیم نے بتایا کہ حویلی کے تہہ خانے میں ایک دروازہ ہے جو صرف مخصوص وقت پر کھلتا ہے۔ وہاں کوئی خزانہ چھپا ہے، لیکن ساتھ ہی بددعا بھی۔ جو بھی اسے لینے جائے گا، اس کی نسل تباہ ہو جائے گی۔ میں نے وہ دروازہ بند کر دیا ہے، اور چابی اسی صندوق میں رکھی ہے۔"
یہ پڑھ کر علی کی نظریں چابی کی تلاش میں لگ گئیں۔ اچانک اسے صندوق کے نیچے ایک چھوٹا خانہ دکھائی دیا۔ اس نے اسے کھولا تو واقعی ایک پرانی سی چابی اندر رکھی تھی۔
علی کے دل میں لالچ پیدا ہوا۔ "کیوں نہ خزانہ دیکھوں؟ بددعا جیسے الفاظ صرف ڈرانے کے لیے ہوتے ہیں۔" وہ تہہ خانے کی طرف بڑھا۔
تہہ خانہ اندھیرا اور ٹھنڈا تھا۔ ایک پرانا دروازہ ملا جس میں چابی لگتی تھی۔ علی نے چابی گھمائی، دروازہ چرچراتے ہوئے کھل گیا۔
اندر سونا، زیورات، اور پرانی چیزیں تھیں۔ علی کی آنکھیں چمک اٹھیں۔ لیکن اچانک پورا کمرہ ہلنے لگا۔ دیواروں پر سائے دوڑنے لگے۔ ایک بھاری آواز گونجی، "تم نے وعدہ توڑا، اب نسل در نسل قیمت چکاؤ گے!"
علی بے ہوش ہو کر گر پڑا۔
جب صبح گاؤں والے وہاں پہنچے، تو علی ہوش میں تو آیا، لیکن بولنا بند کر دیا۔ بس ایک ہی بات بار بار دہراتا، "خزانہ مت لینا... بددعا سچ ہے!"
کچھ دن بعد وہ شہر واپس چلا گیا، لیکن اس کی طبیعت کبھی پہلے جیسی نہ رہی۔
اس دن کے بعد کسی نے دوبارہ حویلی کا رخ نہ کیا۔ اور آج بھی گاؤں والے بچوں کو سکھاتے ہیں: "لالچ کا انجام ہمیشہ بھیانک ہوتا ہے۔"
Comments
Post a Comment