اندھی کھڑکی – حصہ سوم: آخری سایہ
ریحان اور فریحہ دونوں اسکول میں قید ہو چکے تھے۔ اسکول کی گھنٹی اب ہر رات تین بجے بجتی تھی، اور نئی "کلاس" شروع ہو جاتی تھی۔ لیکن اب ایک اور کردار کہانی میں داخل ہوتا ہے۔
"احمد نقوی" — ایک سابقہ اسٹوڈنٹ، جو کبھی بچپن میں اسی اسکول کا طالبعلم رہا۔ وہ اب پیرس سے واپس آیا تھا۔ اس نے جب فریحہ اور ریحان کی خبر سنی، تو کچھ یادیں تازہ ہو گئیں۔
"میں جانتا ہوں۔۔۔ میں نے اسے دیکھا تھا۔۔۔ مسز ناہید نے خودکشی نہیں کی تھی۔۔۔ اسے مارا گیا تھا۔۔۔"
احمد نے فیصلہ کیا، وہ اسکول واپس جائے گا اور اس راز کو بے نقاب کرے گا۔
احمد رات کے 3 بجے اسکول پہنچا۔ گھنٹی بج چکی تھی، دروازے خودبخود کھلے، اور ہر کمرہ جیسے کسی پرانی سانس کی گواہی دے رہا ہو۔
لیکن احمد جانتا تھا کہ اسے کہاں جانا ہے — وہ پرانا تہہ خانہ، جو 1997 میں بند کر دیا گیا تھا۔
نیچے اُترتے ہی دیواروں پر پرانے خون کے چھینٹے، ادھ جلے کاغذ، اور ایک رجسٹر رکھا تھا۔
رجسٹر کا آخری صفحہ خالی تھا۔
لیکن احمد نے جیسے ہی ہاتھ لگایا، سب کچھ زندہ ہو گیا۔
احمد کو ایک پرانا خواب یاد آیا — وہ دن جب مسز ناہید کو اساتذہ کے ایک گروہ نے زبردستی زہر دیا، تاکہ اسکول میں ایک خفیہ فرقہ اپنی پوزیشن مضبوط کر سکے۔ پھر بچوں کو بے ہوش کر کے مردہ قرار دیا گیا۔ سب کچھ چھپانے کے لیے۔
"مسز ناہید بے قصور تھی۔۔۔ وہ تو بچوں کو بچا رہی تھی۔۔۔"
اس کی روح تب سے قید ہے — اس انتظار میں کہ کوئی سچ بولے، اور رجسٹر کا آخری صفحہ سچ سے بھر جائے۔
احمد نے رجسٹر پر سچ لکھ دیا:
"مسز ناہید بے گناہ تھی۔ اسے مارا گیا، وہ قاتل نہ تھی۔"
لکھتے ہی زمین لرزنے لگی۔ اسکول کی دیواریں چیخنے لگیں، اور فریحہ، ریحان، اور باقی بچوں کی روحیں آہستہ آہستہ روشنی میں بدلنے لگیں۔
مسز ناہید کا سایہ سامنے آیا — اس بار اس کے چہرے پر سکون تھا۔
"تم نے سچ لکھا۔۔۔ میرا کام مکمل ہوا۔۔۔ اب کلاس ختم ہو گئی۔۔۔"
صبح کے وقت اسکول کی عمارت مکمل زمین بوس ہو چکی تھی — جیسے کبھی وجود ہی نہ رکھتی ہو۔
رجسٹر؟
بس ایک راکھ کا ڈھیر۔
اور گھنٹی؟
کبھی دوبارہ نہیں بجی۔
احمد نے بعد میں ایک کتاب لکھی:
"رجسٹر کا آخری صفحہ: ایک اسکول، ایک سچ، ایک رہائی"
جو اب بھی ان لائبریریوں میں ملتی ہے جہاں شام کے بعد کوئی نہیں جاتا۔
Comments
Post a Comment