اندھی کھڑکی – حصہ سوم: آخری سایہ
علی اور زبیر نے اپنی زندگی معمول پر لے آنے کی کوشش کی۔ علی نے صحافت چھوڑ دی تھی اور ایک چھوٹے اسکول میں پڑھانے لگا تھا۔ زبیر ایک لائبریری میں کام کرتا تھا۔ لیکن حویلی کی یادیں اب بھی کہیں نہ کہیں اُن کے ساتھ چلتی رہتی تھیں۔
ایک دن زبیر کو ایک پرانی کتاب ہاتھ لگی، جس کا عنوان تھا:
یہ کتاب ہاتھ سے لکھی گئی تھی، اور صفحہ نمبر 73 پر ایک حویلی کا ذکر تھا — تصویر، ترتیب، تاریخ — سب کچھ وہی۔ لیکن حیرت کی بات یہ تھی کہ اس کتاب میں لکھا تھا:
> "حویلی کے نیچے ایک اور دروازہ ہے، جو صرف اس وقت کھلتا ہے جب انتقام مکمل ہو جائے۔ وہاں نہ روحیں ہوتی ہیں، نہ اجسام — صرف سچ ہوتا ہے۔"
زبیر نے فوراً علی کو بتایا۔ دونوں کے اندر پھر وہی جستجو جاگ اٹھی۔ وہ جاننا چاہتے تھے:
اگر آمنہ کی روح آزاد ہو گئی، تو یہ دروازہ کیوں باقی ہے؟
اگلی رات، وہ دونوں پھر اس جگہ گئے — جہاں کبھی حویلی کھڑی تھی۔ اب وہاں صرف ایک سنّاٹا تھا اور کچھ جلے ہوئے پتھر۔ زبیر نے خاص جگہ پر کھدائی شروع کی، جہاں کتاب میں نشان دیا گیا تھا۔
کئی گھنٹوں بعد، زمین کی تہہ میں ایک پتھریلا دروازہ نکلا — جس پر کوئی قفل نہ تھا، صرف ایک جملہ کھدہ ہوا تھا:
"جو سچ جاننے کی ہمت کرے، وہ جھوٹ کی قیمت دے گا۔"
علی نے دروازہ کھولا۔ نیچے ایک سرنگ تھی، تنگ اور اندھیرے میں ڈوبی ہوئی۔
جب وہ نیچے پہنچے، تو ایک چھوٹا سا کمرہ تھا۔ وہاں صرف ایک شیشے کا صندوق تھا، جس میں نواب شرف الدین کی ڈائری رکھی تھی۔
ڈائری کے صفحے کھلتے ہی ایک خوفناک سچ سامنے آیا:
آمنہ کو نواب نے اس لیے مارا کیونکہ وہ حاملہ تھی — اور بچہ نواب کا نہیں، اس کے بھائی کا تھا۔
لیکن... اگلے صفحے نے کہانی کو پلٹ دیا۔
"میں نے جھوٹا الزام لگایا تھا۔ آمنہ پاک دامن تھی۔ وہ بچہ میرا ہی تھا، لیکن میں نے اسے سزا دی کیونکہ میری انا ہار گئی تھی۔"
زبیر اور علی دونوں سکتے میں تھے۔
"تو آمنہ سچ میں بے قصور تھی... اور اس کا بچہ...؟"
علی نے آہستہ کہا۔
تبھی پیچھے سے کسی نے کہا:
"میں وہی بچہ ہوں۔"
دونوں نے پلٹ کر دیکھا — ایک بزرگ کھڑا تھا، جس کی آنکھوں میں وہی گہرائی تھی جیسے آمنہ کی۔
"میری ماں کو انصاف تو ملا، مگر میرے باپ کی معافی ابھی باقی ہے۔"
یہ کہہ کر اس نے شیشے کا صندوق توڑا، اور ڈائری جلا دی۔
"اب سب ختم۔ اب کوئی دروازہ نہیں بچے گا۔"
زمین ہلنے لگی، سرنگ گرنے لگی۔ زبیر اور علی بمشکل باہر نکلے۔ جب وہ پلٹے، تو وہاں نہ دروازہ تھا، نہ دراڑ، نہ بزرگ — جیسے سب کچھ کبھی تھا ہی نہیں۔
زندگی میں کچھ دروازے ایسے ہوتے ہیں جو صرف اس وقت کھلتے ہیں جب ہم خود کو مکمل طور پر سچ کے سپرد کر دیں۔ لیکن..
ہر سچ سنبھالنا ہر کسی کے بس کی بات نہیں۔
Comments
Post a Comment