اندھی کھڑکی – حصہ سوم: آخری سایہ
قاہرہ (مصر) کے مرکزی عجائب گھر میں ان دنوں ایک خاص نمائش جاری تھی۔ یہ نمائش تھی فرعون اخناتون کی باقیات کی، جو تاریخ کے سب سے متنازع، پراسرار اور کم عمر فرعونوں میں سے ایک تھا۔ اخناتون نے مصری دیوتاؤں کی پرانی عبادات ختم کر کے صرف ایک خدا "آتون" کی پرستش کا حکم دیا تھا۔
ماہر آثار قدیمہ، ڈاکٹر نائلہ یوسف، اس نمائش کی نگرانی کر رہی تھیں۔ ان کے ساتھ ایک پاکستانی محقق ماجد عباس بھی شامل تھا، جو قدیم مصری رسم الخط اور خفیہ کوڈز پر مہارت رکھتا تھا۔
نمائش کے دوران ایک عجیب واقعہ پیش آیا—اخناتون کے تابوت کے قریب کام کرنے والے ایک کارکن کی موت ہو گئی۔ اس کا چہرہ جیسے کسی شدید خوف سے اکڑا ہوا تھا۔ رپورٹ میں درج تھا: "ہارٹ اٹیک"۔
مگر ڈاکٹر نائلہ کے مطابق، یہ محض اتفاق نہیں تھا۔
ماجد، جو ہمیشہ رازوں میں دلچسپی رکھتا تھا، نے تابوت پر نقش تحریروں کا جائزہ لیا۔ ان میں ایک عبارت بار بار دہرائی گئی تھی:
> "جو میری نیند کو توڑے گا، وہ اپنے وقت سے پہلے زمین میں دفن ہوگا۔"
ماجد کو تجسس ہوا۔ اس نے تابوت کے اندرونی کنارے پر کچھ خراشیں محسوس کیں۔ ایک کونے میں اسے ایک چھوٹا سا کاغذی لفافہ ملا، جو شاید وقت کے ساتھ دھندلا چکا تھا۔ اس پر صرف ایک جملہ لکھا تھا:
> "بیداری کا دروازہ مصر میں نہیں، مشرق میں کھلے گا۔"
یہ پڑھ کر نائلہ نے فوراً کہا:
“یہ اشارہ مشرقی دنیا کی طرف ہے.. کہیں ہندوستان یا پاکستان؟”
چند دن بعد، ماجد پاکستان واپس آ گیا اور اس نے تحقیق شروع کی۔ ایک پرانا حوالہ اسے ملا کہ برطانوی دور حکومت میں، راولپنڈی کے نزدیک کھدائی کے دوران ایک عجیب سا پتھر ملا تھا جس پر مصری رسم الخط تھا، مگر اس کھدائی کو اچانک بند کر دیا گیا تھا۔
ماجد اس جگہ پہنچا، جو اب ایک ویران پہاڑی علاقہ بن چکا تھا۔ مقامی لوگوں کا کہنا تھا کہ "اس زمین کے نیچے کچھ شیطانی دفن ہے"۔ ماجد نے مقامی مزدوروں کے ساتھ دوبارہ کھدائی شروع کی۔
تین دن کی کوشش کے بعد، زمین کے اندر ایک پتھریلا دروازہ ملا، جس پر وہی عبارت کندہ تھی:
> "بیداری کا دروازہ یہاں کھلے گا، مگر قیمت چکانی ہوگی۔"
ماجد نے دروازہ کھولا، اور نیچے اترنے لگا۔ یہ ایک چھوٹا سا چیمبر تھا جس کی دیواروں پر مصری مصوروں کی مانند پینٹنگز تھیں۔ لیکن ان تصویروں میں اخناتون کے ساتھ ایک اور مرد دکھایا گیا تھا—جس کا لباس ہندوستانی راجاؤں جیسا تھا!
یہ منظر حیران کن تھا۔ کیا اخناتون کا تعلق برصغیر سے بھی تھا؟ کیا کوئی رابطہ تھا ان تہذیبوں کے درمیان؟
چیمبر کے بیچ میں ایک دھات کا باکس رکھا تھا۔ جیسے ہی ماجد نے اسے چھوا، ایک زوردار جھٹکا محسوس ہوا۔ باکس کے اندر ایک سونے کی مہر تھی، جس پر اخناتون کے ساتھ ایک سنسکرت تحریر بھی درج تھی:
> "اے وقت کے مسافر، تم نے جو در کھولا ہے، وہ بند نہیں ہوگا—جب تک تم قربانی نہ دو۔"
اس رات، ماجد نے عجیب خواب دیکھے۔ اخناتون ایک ویرانے میں کھڑا کہہ رہا تھا:
> "تم نے مجھے جگایا ہے۔ اب تم خود کو نہیں روک سکو گے۔ میرا راز اب تمہارا بوجھ ہے۔"
اگلے دن، ماجد کو بخار چڑھ گیا۔ وہ عجیب و غریب آوازیں سننے لگا۔ اسے محسوس ہونے لگا کہ وہ اکیلا نہیں، کوئی اس کے ساتھ ہے۔
ڈاکٹر نائلہ کو اطلاع دی گئی۔ وہ قاہرہ سے اسلام آباد آئیں اور ماجد کو اسپتال منتقل کیا۔ ان کے ساتھ ایک مصری راہب بھی تھا، جو اخناتون کی لعنت پر تحقیق کرتا رہا تھا۔
راہب نے ایک دعائیہ کتاب نکالی اور کہا:
> "یہ لعنت صرف تب ختم ہوگی جب مہر کو دوبارہ دفن کیا جائے، اور وہی ہاتھ کرے جس نے اسے نکالا ہو۔"
ماجد نے خود کو ہسپتال سے نکالا، اور نائلہ کے ساتھ واپس اس مقام پر پہنچا۔ دوبارہ چیمبر میں داخل ہو کر، اس نے مہر واپس اسی جگہ پر رکھ دی۔ جیسے ہی اس نے یہ کیا، پوری زمین ہلنے لگی، اور دروازہ خود بخود بند ہو گیا۔
ماجد زمین پر گر گیا، مگر جب وہ اٹھا، تو جیسے ساری پریشانی دور ہو چکی تھی۔ اس کی آنکھوں میں سکون تھا۔
چند ماہ بعد، وہ قاہرہ واپس گیا، اور اخناتون کی باقیات کو محفوظ ترین مقام پر منتقل کیا گیا۔ ماجد نے کبھی یہ راز مکمل طور پر افشا نہیں کیا۔
مگر ایک بار اس نے نائلہ سے کہا:
> "ہم نے شاید تاریخ کی سب سے بڑی کہانی دبا دی. .. مگر بعض راز، راز ہی بہتر ہوتے ہیں۔
Comments
Post a Comment