اندھی کھڑکی – حصہ سوم: آخری سایہ
کہانی: "آخری سیڑھی"
عائشہ ایک نوجوان لڑکی تھی جو لاہور کی ایک قدیم یونیورسٹی میں پڑھتی تھی۔ اس کی رہائش ایک پرانے ہاسٹل میں تھی جسے "بلاک سی" کہا جاتا تھا۔ سب کچھ معمول کے مطابق تھا، لیکن ایک دن عائشہ نے ایک عجیب خواب دیکھا۔
خواب میں وہ ایک سیڑھیوں والے تاریک کمرے میں کھڑی ہوتی، جہاں سے ایک آواز آتی:
"آخری سیڑھی مت چڑھنا… ورنہ واپس نہ آ سکو گی…"
عائشہ خوفزدہ ہو کر جاگ گئی۔ اس نے یہ خواب محض دماغی تھکن سمجھا، مگر یہ خواب روز آنے لگا — بالکل ویسا ہی، ایک جیسی سیڑھیاں، وہی آواز، اور وہی انتباہ۔
کچھ دن بعد، عائشہ کو ہاسٹل کی پرانی فائلوں میں معلوم ہوا کہ بلاک سی کی اوپری منزل — تیسری منزل — کئی سال پہلے بند کر دی گئی تھی۔ وجہ؟ کوئی نہیں جانتا تھا۔ بس اتنا کہا گیا کہ "ایک حادثہ" پیش آیا تھا۔
عائشہ کو تجسس ہوا۔ ایک رات جب سب سو رہے تھے، وہ چپکے سے اوپر گئی۔ دروازے پر زنگ آلود تالہ تھا، لیکن حیرت کی بات یہ تھی کہ وہ تالہ کھلا ہوا تھا۔
وہ اندر گئی، تو سامنے وہی سیڑھیاں تھیں — جو اُس نے خواب میں دیکھی تھیں۔
عائشہ نے موبائل کی ٹارچ جلائی اور قدم بہ قدم سیڑھیاں چڑھنے لگی۔ ہر قدم کے ساتھ سرد ہوا کا جھونکا آتا، اور کانوں میں سرگوشیاں گونجتیں۔ جیسے کئی لوگ ایک ساتھ کچھ کہہ رہے ہوں، مگر لفظ سمجھ نہیں آتے تھے۔
جب وہ دوسری آخری سیڑھی پر پہنچی، تو اسے یاد آیا:
"آخری سیڑھی مت چڑھنا… ورنہ واپس نہ آ سکو گی…"
لیکن تجسس غالب آ گیا۔ اُس نے آخری سیڑھی پر قدم رکھا — اور فوراً ایک زوردار چیخ سنائی دی۔
کمرہ یک دم بدل گیا۔ دیواریں سیاہ ہو گئیں، روشنی غائب، اور ایک سایہ اُس کے سامنے نمودار ہوا — لمبا، بغیر چہرے کے، صرف آنکھوں کی جگہ سرخ روشنی۔
"تم نے خبردار کیا گیا تھا… اب تمہاری باری ہے…"
صبح ہوئی تو عائشہ اپنے کمرے میں نہیں تھی۔ اُس کی ساتھیوں نے بہت ڈھونڈا۔ پولیس بلائی گئی، مگر کوئی سراغ نہ ملا۔ صرف اُس کی چپل سیڑھیوں کے پاس پڑی ملی۔
جب یونیورسٹی انتظامیہ نے اوپری منزل کی سی سی ٹی وی فوٹیج دیکھی، تو کچھ نہیں تھا۔ آخری فوٹیج میں بس ایک لمحے کو ایک دھندلا سایہ دکھائی دیا — بالکل ویسا جیسا عائشہ نے خواب میں دیکھا تھا۔
کئی مہینے بعد، ایک نئی لڑکی، مریم، اُسی کمرے میں رہنے آئی۔ سب کچھ معمول کے مطابق تھا… یہاں تک کہ اُس نے بھی وہی خواب دیکھنا شروع کیے۔
"آخری سیڑھی مت چڑھنا…"
اور پھر ایک رات، سیڑھیاں دوبارہ کسی کے قدموں سے گونجیں…
کہتے ہیں کچھ سیڑھیاں صرف چڑھنے کے لیے نہیں ہوتیں، کچھ پر صرف ایک بار قدم رکھا جاتا ہے… اور واپسی کبھی ممکن نہیں ہوتی۔
کیا تم آخری سیڑھی چڑھنے کی ہمت کرو گے؟
Comments
Post a Comment