اندھی کھڑکی – حصہ سوم: آخری سایہ
کراچی کے ایک قدیم علاقے میں ایک اندھی گلی تھی، جس کے آخر میں ایک پرانا سا مکان تھا۔ یہ مکان کئی سالوں سے خالی پڑا تھا کیونکہ محلے میں یہ مشہور تھا کہ وہاں جن کا سایہ ہے۔ لیکن غربت اور حالات انسان سے بڑے فیصلے کرواتے ہیں۔
ساجد، ایک درمیانی عمر کا آدمی، اپنی بیوی نائلہ اور دو بچوں کے ساتھ شہر کے ہجوم سے بچنے کے لیے وہیں آ کر رہنے لگا۔ وہ ان افواہوں پر یقین نہیں رکھتا تھا۔ ساجد نے کہا، "یہ سب کہانیاں ہوتی ہیں، لوگ بس دوسروں کو ڈرانے کے لیے افواہیں پھیلاتے ہیں۔"
پہلے دن سب کچھ معمول کے مطابق تھا۔ مکان تھوڑا خستہ ضرور تھا، مگر چلنے پھرنے کے قابل تھا۔ نائلہ نے صفائی کی، بچے گھر کے صحن میں کھیلنے لگے، اور رات سب نے سکون سے گزاری۔
دوسری رات سے حالات بدلنے لگے۔ ساجد کو رات کو کسی کے چلنے کی آوازیں سنائی دیں، جیسے کوئی چھت پر چل رہا ہو۔ اس نے اوپر جا کر دیکھا تو وہاں کچھ بھی نہیں تھا۔
اگلی رات نائلہ نے کہا، "میں نے کچن میں کسی کو دیکھا جو سائے کی طرح غائب ہو گیا۔" ساجد نے ہنستے ہوئے کہا، "یہ صرف تمہارا وہم ہے، نئے گھر کی عادت نہیں پڑی۔"
لیکن اگلے دن جب ان کا بیٹا حمزہ صحن میں کھیل رہا تھا، وہ زور زور سے رونے لگا۔ اس نے بتایا، "ایک کالے کپڑوں والا انکل مجھے کہہ رہے تھے کہ یہ میرا گھر ہے، تم لوگ یہاں سے چلے جاؤ!"
ساجد گھبرا گیا اور قریبی مسجد کے امام صاحب کے پاس گیا۔ امام صاحب نے کہا، "بیٹا، وہ گھر پرانے وقتوں میں عاملوں کا تھا۔ وہاں کچھ ایسا عمل ہوا تھا جو رہ گیا، اور اب وہ مخلوق اس گھر کو اپنا مانتی ہے۔"
ساجد نے پھر بھی گھر نہ چھوڑنے کا فیصلہ کیا۔ اس رات، سب گھر والوں نے عجیب و غریب خواب دیکھے۔ نائلہ نے خواب میں ایک عورت کو دیکھا جس کے بال بہت لمبے اور بکھرے ہوئے تھے، اور آنکھیں لال۔ وہ کہہ رہی تھی، "یہ میرا گھر ہے، تم لوگ یہاں سے جاؤ، ورنہ پچھتاؤ گے۔"
چوتھی رات ایک خوفناک واقعہ پیش آیا۔ حمزہ کی طبیعت اچانک بہت خراب ہو گئی۔ وہ نیم بے ہوش ہو کر بس ایک ہی بات کہتا رہا: "وہ آ رہا ہے، وہ آ رہا ہے۔"
جب ساجد نے اسے اٹھا کر ہسپتال لے جانا چاہا تو دروازہ خود بخود بند ہو گیا۔ کھڑکیاں تیز آواز کے ساتھ بند ہونے لگیں۔ گھر کا درجہ حرارت سرد ہو گیا، جیسے برف میں ہوں۔ سب دیواروں پر کالے نشان بننے لگے، اور کسی نے اونچی آواز میں کہا:
"تمہیں خبردار کیا تھا!"
اس وقت ساجد کو اندازہ ہو گیا کہ وہ جسے وہم سمجھ رہا تھا، وہ سچ تھا۔
اگلے دن ساجد، نائلہ اور بچوں کو لے کر امام صاحب کے ساتھ ایک بزرگ عالم کے پاس گیا، جو روحانی علاج کرتے تھے۔ بزرگ نے مکان کا نقشہ مانگا اور کہا، "اس گھر کے نیچے کچھ دفن ہے، وہی اس سب کا سبب ہے۔"
انہوں نے تعویز اور مخصوص آیات کا ورد دیا اور کہا کہ تین راتوں تک مکان میں یہ پڑھائی کی جائے۔ ساجد نے ہمت کی اور تین راتیں امام صاحب کے ساتھ وہ عمل کیا۔
پہلی رات چیزیں حرکت کرتی رہیں۔ دوسری رات دروازے کھلتے بند ہوتے رہے۔ تیسری رات ایک عورت کی چیخ سنائی دی، اور سارا مکان لرزنے لگا۔ پھر ایک دم سب کچھ تھم گیا۔
صبح سورج نکلتے ہی، امام صاحب نے بتایا، "جنات کا سایہ ختم ہو چکا ہے، لیکن تمہیں یہاں سے چلے جانا چاہیے۔ اس جگہ کی فضا اب بھی خالی نہیں ہے۔"
ساجد نے وہ مکان فوراً چھوڑ دیا۔ اس نے کرائے پر نئی جگہ لی اور اب وہ اپنی زندگی معمول کے مطابق گزار رہا ہے۔ اس نے فیصلہ کیا کہ اب کسی ایسی جگہ نہیں جائے گا جہاں کے بارے میں ایسی باتیں مشہور ہوں، چاہے حالات جیسے بھی ہوں۔
کئی سال گزر گئے، لیکن محلے میں وہ پرانا مکان آج بھی ویسا ہی کھڑا ہے، ویران، خاموش، اور اس کے گرد پرندے بھی نہیں پھٹکتے۔
محلے والے کہتے ہیں کہ کچھ راتوں کو آج بھی اس مکان سے عورت کے رونے اور بچوں کے ہنسنے کی آوازیں آتی ہیں۔ شاید وہ سایہ ابھی بھی مکمل طور پر ختم نہیں ہوا…
یہ کہانی ہمیں یہ سبق دیتی ہے کہ بعض جگہیں ایسی ہوتی ہیں جو صرف دنیاوی نہیں ہوتیں۔ اگر کبھی کسی مقام کے بارے میں لوگوں کی زبان پر خوفناک باتیں ہوں، تو ہمیں انہیں سنجیدگی سے لینا چاہیے۔
Comments
Post a Comment