اندھی کھڑکی – حصہ سوم: آخری سایہ
وقت وہ پہیلی ہے جس نے انسان کو ہمیشہ حیران کیا ہے۔ کبھی وہ بہت تیز گزرتا ہے، کبھی بہت سست۔ کبھی ہمیں لگتا ہے کہ وقت ہمارے قابو میں ہے، تو کبھی ایسا محسوس ہوتا ہے کہ وقت ہمیں قابو میں کیے ہوئے ہے۔
یہ کہانی ہے ایک نوجوان سائنسدان، فیضان کی، جس نے وقت کو سمجھنے کی کوشش کی، اور ایک ایسے سفر پر نکل پڑا جو اس کی زندگی بدل کر رکھ دیا۔
فیضان ایک ماہر طبیعیات تھا۔ وہ روزانہ وقت کے بارے میں سوچتا، کہ وقت کیا ہے؟ کیا وقت صرف گزرنے والی گھڑیاں ہیں؟ یا وقت میں کچھ اور بھی پوشیدہ ہے؟
اس نے کہا:
"اگر وقت کو قابو کیا جا سکتا، تو کیا ماضی یا مستقبل میں جا کر واقعات بدلے جا سکتے ہیں؟"
فیضان نے ایک مشین بنائی جسے وہ "ٹائم ٹریولر" کہتا تھا۔ اس مشین کا مقصد وقت کے مختلف حصوں میں سفر کرنا تھا۔
پہلی بار جب اس نے مشین آن کی، تو اسے اپنے بچپن کی ایک یاد میں پہنچا دیا گیا۔ اس نے دیکھا کہ کیسے وہ اپنے والد کے ساتھ کھیل رہا تھا، ایک خوشگوار دن تھا۔
فیضان نے ماضی میں کئی بار سفر کیا، مگر اس نے ایک بات سیکھ لی:
"ماضی کو بدلنا ممکن نہیں۔ کیونکہ ہر چھوٹا بڑا واقعہ مستقبل کے لیے ایک جال کی طرح بُنا ہوا ہے۔"
ایک دن فیضان نے مشین کو اس طرح سیٹ کیا کہ وہ مستقبل کی جھلک دیکھ سکے۔ وہاں اس نے اپنی عمر رسیدہ شکل دیکھی — تھکا ہوا، مگر خوش۔ اس نے خود سے کہا:
فیضان نے اپنی مشین کو بند کر دیا اور کہا:
"وقت کو پکڑنا ممکن نہیں، مگر اسے ضائع کرنا سب سے بڑی بے وقوفی ہے۔"
وقت ایک ایسا ناپید عنصر ہے جو زندگی کی تمام خوشیاں، غم، کامیابیاں اور ناکامیاں اپنے اندر سموئے ہوتا ہے۔
یہ ہمارے عمل کا نتیجہ ہے، ہماری سوچ کی گہرائی ہے، اور سب سے بڑی حقیقت کہ وقت کبھی رکتا نہیں۔
Comments
Post a Comment