اندھی کھڑکی – حصہ سوم: آخری سایہ
یہ واقعہ 2015 کی سردیوں کی ایک شام کا ہے — ایک ایسا دن جو میں چاہوں بھی تو کبھی بھلا نہیں سکتی۔
میں، میرے کزن علی، اور میرا چھوٹا بھائی عمر شہر سے اپنے گاؤں واپس آ رہے تھے۔ گاڑی ہمیں گاؤں تک تو نہ لے جا سکی، اس نے ہمیں گاؤں سے کافی دور ایک سنسان جگہ پر اتار دیا۔ وہاں سے ہمارا گاؤں ایک گھنٹے کی پیدل مسافت پر تھا۔ وقت شام کا تھا، آسمان پر ہلکی ہلکی سی سنہری روشنی باقی تھی، اور پہاڑوں کے پیچھے سورج چھپ رہا تھا۔
ہم نے چلنا شروع کیا۔ علی ہمیشہ کی طرح ہم سے آگے آگے جا رہا تھا، عمر میرے ساتھ تھا، اور میں دل ہی دل میں جلدی گاؤں پہنچنے کی دُعا کر رہی تھی۔ درختوں کے جھنڈ کے قریب پہنچے تو فضا میں عجیب سا سکوت پھیل گیا۔ ایسا لگا جیسے سب کچھ ایک لمحے کو رُک گیا ہو۔
پھر ایک دم.. میرے جسم میں ایک سرد لہر دوڑ گئی۔ میرے رونگٹے کھڑے ہو گئے، جیسے کسی نے میرے سر پر برف ڈال دی ہو۔ میں ٹھٹکی، اور آہستہ سے پیچھے دیکھا.. اور وہ منظر میں آج تک نہیں بھولی۔
پیچھے ایک سایہ تھا۔ بہت ہی لمبا، انسانوں سے کئی گنا بڑا۔ وہ سایہ جیسے زمین پر نہیں بلکہ فضا میں تیر رہا ہو۔ اس کا کوئی چہرہ نہیں تھا، صرف ایک سیاہ دھند، جو ہر قدم پر ہمارے قریب آ رہی تھی۔
میرا دل زور زور سے دھڑکنے لگا۔ عمر کا ہاتھ میرے ہاتھ میں کانپنے لگا۔ وہ چھوٹا تھا، مگر میں جان گئی تھی کہ وہ بھی کچھ محسوس کر چکا ہے۔ میں نے علی کو ہلکی آواز میں کہا:
"علی.. علی پیچھے کوئی ہے.."
علی نے مڑ کر دیکھا، اور اس کی آنکھوں میں بھی وہی خوف اُتر آیا۔ مگر اس نے ہمت جمع کی:
"گھبراؤ نہیں، میں ہوں نا تم لوگوں کے ساتھ۔"
ہم تینوں نے ایک دوسرے کا ہاتھ پکڑا اور تیز چلنے لگے، مگر جیسے ہمارے پاؤں زمین سے چپک گئے ہوں۔ ہر قدم بھاری لگ رہا تھا، سانسیں بے قابو ہو رہی تھیں۔ علی نے زور زور سے اذان دینا شروع کی:
"اللہ اکبر.. اللہ اکبر.."
پھر آیت الکرسی پڑھنے لگا، لیکن وہ سایہ — وہ بدبخت سایہ — رکنے کا نام نہیں لے رہا تھا۔ وہ اور قریب... اور قریب آتا جا رہا تھا۔
میں نے محسوس کیا جیسے اس کی سانس میری گردن کو چھو رہی ہو۔ میں چیخنا چاہتی تھی، لیکن میری آواز بند ہو چکی تھی۔ عمر کی آنکھوں میں آنسو تھے، وہ بول بھی نہیں پا رہا تھا۔ علی کی آواز بھی تھرّا گئی تھی۔
پھر.. جیسے آسمان نے ہمیں بچا لیا ہو۔
گاؤں کے قریب پہنچتے ہی عشاء کی اذان کی آواز گونجی۔
"اللہ اکبر.. اللہ اکبر.."
اذان کی صدا سنتے ہی وہ سایہ ایک دم رک گیا۔ جیسے کوئی زنجیر کھنچ گئی ہو۔ وہ وہیں ساکت ہو گیا، پھر آہستہ آہستہ پیچھے ہٹا، اور درختوں کے جھنڈ میں گم ہو گیا۔
ہم کسی طرح گاؤں پہنچے۔ عمر کو بخار ہو گیا تھا، علی چپ تھا، اور میں... میں بس لرز رہی تھی۔ امی نے دیکھا تو پریشان ہو گئیں، لیکن ہم میں کسی میں ہمت نہ تھی کہ سب کچھ بیان کریں۔
اس کے بعد کئی راتیں ہم سوتے میں اٹھ جاتے، دروازے پر "ٹک ٹک" سنائی دیتی۔ صحن میں کسی کے چلنے کی چاپ محسوس ہوتی۔ عمر راتوں کو ڈر کے مارے روتا، علی نے تکیے کے نیچے قرآن رکھ لیا، اور میں ہر رات جاگتی رہتی.. اذان کا انتظار کرتی۔
پھر ایک دن امی کسی اللہ والے کو لے آئیں۔ وہ آئے، دم کیا، آیت الکرسی پڑھیں، اور بس اتنا کہا:
"یہ سایہ تمہیں لے جانا چاہتا تھا.. مگر اذان نے روک دیا۔"
آج بھی جب عشاء کی اذان گونجتی ہے، میرے دل کو سکون آتا ہے۔ مجھے لگتا ہے جیسے میں پھر سے محفوظ ہو گئی ہوں۔
یہ کوئی خواب یا کہانی نہیں،
یہ میری زندگی کا سب سے خوفناک،
سب سے سچا واقعہ ہے۔
Comments
Post a Comment