اندھی کھڑکی – حصہ سوم: آخری سایہ
فریحہ ایک نوجوان لڑکی تھی جو اینٹیکس جمع کرنے کا شوق رکھتی تھی۔ ایک دن، وہ شہر سے باہر ایک پرانی مارکیٹ میں گئی۔ وہاں ایک چھوٹی سی دکان میں، ایک بوڑھی عورت نے اسے ایک گڑیا دکھائی۔
گڑیا نہایت خوبصورت تھی۔ ہاتھ سے بنی ہوئی، آنکھیں نیلی، بال سنہرے، اور لباس سن 1900ء کی طرز کا۔
بوڑھی عورت نے اسے خبردار کیا:
> "یہ گڑیا کھیلنے کے لیے نہیں… یہ قید رکھنے کے لیے ہے۔"
فریحہ نے مذاق میں ہنستے ہوئے گڑیا خرید لی اور گھر لے آئی۔
پہلی رات ہی فریحہ کو خواب آیا کہ وہ ایک اندھیرے کمرے میں بند ہے، اور گڑیا اس سے بول رہی ہے:
> "تم نے مجھے اٹھایا ہے… اب میں تمہیں دیکھ رہی ہوں۔"
اگلے دن، فریحہ کے کمرے میں عجیب آوازیں آنے لگیں۔
گڑیا کبھی صوفے پر، کبھی بیڈ پر، کبھی فرش پر… ہر بار اپنی جگہ بدل چکی ہوتی۔
فریحہ نے سمجھا شاید کسی نے شرارت کی ہو، لیکن وہ اکیلی رہتی تھی۔
ایک رات، گڑیا کی آنکھوں سے خون جیسا سرخ پانی بہنے لگا۔ اور ساتھ ہی دیوار پر الفاظ ابھرنے لگے:
> "مجھے آزاد کرو… یا خود قید ہو جاؤ گی!"
فریحہ نے گڑیا کی اصل تلاش کرنے کی ٹھانی۔ تحقیقات کے بعد معلوم ہوا:
> یہ گڑیا دراصل ایک لڑکی "زمل" کی ہے جو 1902ء میں پراسرار طور پر لاپتہ ہو گئی تھی۔
لوگوں کا کہنا تھا کہ زمل کی روح کو ایک کالا جادوگر قید کر گیا تھا — اور اس کی روح گڑیا میں منتقل کر دی گئی تھی تاکہ وہ دنیا میں واپس نہ آ سکے۔
تب سے یہ گڑیا جس کے پاس بھی گئی، وہ یا تو پاگل ہو گیا، یا غائب۔
فریحہ نے گڑیا واپس اُس دکان میں لے جانے کی کوشش کی… لیکن دکان ہی غائب ہو چکی تھی۔
گھر واپس آ کر، اس نے گڑیا کو جلانے کی کوشش کی… لیکن آگ قریب آتے ہی بجھ جاتی۔
اچانک گڑیا کی آواز آئی:
> "تم نے قید کھول دی ہے… اب تم بھی قیدی ہو۔"
گھر کی تمام لائٹس بند ہو گئیں۔ آئینے میں فریحہ کی شکل نہیں، بلکہ زمل کی روح دکھائی دی، جو گڑیا سے نکل کر فریحہ میں سما گئی۔
اب فریحہ کی آنکھیں نیلی تھیں… بال سنہرے… اور چہرے پر ایک عجیب سی مسکراہٹ۔
اگلے دن ایک نیا شخص، اینٹیکس کا شوقین، فریحہ کا گھر خریدنے آیا۔
گھر سنسان تھا… لیکن لاؤنج کی میز پر ایک خوبصورت گڑیا رکھی تھی۔
بوڑھی آواز آئی:
> "یہ گڑیا کھیلنے کے لیے نہیں… یہ قید رکھنے کے لیے ہے۔"
Comments
Post a Comment