اندھی کھڑکی – حصہ سوم: آخری سایہ
منیب نے خود کو قربان کر کے ثنا کو آئینے کی قید سے آزاد کیا۔ مگر اب منیب خود آئینے کے اندر ایک عکس بن چکا تھا — زندہ، مگر قید۔ ثنا نے منیب کو بچانے کی قسم کھائی۔
ثنا نے منیب کی پرانی ڈائری پڑھنی شروع کی، جس میں ایک صفحہ تھا جس پر صرف تین الفاظ لکھے تھے:
"نقشِ آئینہ پڑھو"
اس نے تحقیقات کیں تو پتہ چلا کہ آئینہ خانہ دراصل 1802 میں ایک جادوگر "صابر شاہ" نے بنایا تھا۔ اُس نے ایک خاص شیشہ تیار کیا، جس میں روحوں کو قید کیا جا سکتا تھا۔ ہر صدی میں اسے نئی روح کی بھینٹ درکار تھی تاکہ وہ زندہ رہے۔
آخری قید؟ منیب۔
آخری موقع؟ ثنا۔
ثنا نے صابر شاہ کی پرانی کتاب "سفر عکس" حاصل کی، جس میں ایک نقش درج تھا —
ایک آئینی دروازہ کھولنے کا، لیکن قیمت تھی..
"ایک عکس کو نکالنے کے لیے، تین عکسوں کو قید کرنا ہوگا۔۔۔"
یعنی تین لوگوں کو خود آئینے میں جھانکنا پڑے گا — اور ثنا کے پاس وقت کم تھا، کیونکہ منیب کی روح مدھم ہوتی جا رہی تھی۔
ثنا نے دو ایسے لوگ ڈھونڈے، جنہوں نے ماضی میں آئینہ خانہ سے فائدہ اٹھایا تھا — پرانے جادوئی ماہر، اور پراسرار دلال، جنہوں نے وہاں لوگوں کو دھوکہ دے کر داخل کیا تھا۔
تیسرا عکس؟
خود ثنا بن گئی۔
وہ تینوں آئینے کے سامنے کھڑے ہوئے، اور جیسے ہی وہ "نقش" بولے، آئینہ چمکنے لگا، روشنی پھیل گئی — اور منیب باہر آ گیا۔
مگر آئینہ پھٹ گیا۔
منیب نے ثنا کو اٹھایا، جو نیم مردہ حالت میں تھی۔ لیکن مسکرا رہی تھی۔
"تم اب آزاد ہو۔۔۔ آئینہ ختم ہو گیا۔۔۔ عکس ٹوٹ گیا۔۔۔"
منیب نے پوچھا:
"اور تم؟"
ثنا نے آہستہ کہا:
"میں.. اب عکس ہوں.."
اس کی آنکھوں میں روشنی بجھ گئی۔
جگہ خالی ہے، زمین ہموار ہے، مگر جس دن دھوپ بالکل سیدھی پڑتی ہے،
زمین پر ایک عکس ابھرتا ہے — ثنا کا۔
اور اگر کوئی وہاں جا کر کھڑا ہو، تو وہ عکس سرگوشی کرتا ہے:
"عکس ختم نہیں ہوتے.. بس زاویہ بدل لیتے ہیں.."
Comments
Post a Comment