اندھی کھڑکی – حصہ سوم: آخری سایہ
فضا میں ہلکی ہلکی خوشبو بکھری ہوئی تھی۔ بہار کی نرم دھوپ، سرسبز درخت، اور گلابوں کی مہک جیسے فضا کو عاشقانہ بنا رہی تھی۔ لاہور کی مشہور "باغِ جناح" میں آج کچھ خاص تھا۔ یہ وہی جگہ تھی جہاں فریحہ اور امن کی پہلی ملاقات ہوئی تھی۔
فریحہ ایک سلجھی ہوئی، مہذب اور پڑھائی میں لائق لڑکی تھی۔ وہ یونیورسٹی میں انگریزی ادب کی طالبہ تھی اور شاعری کی شوقین۔ امن، ایک خوبرو، خوش اخلاق اور ادب دوست نوجوان، جس کی آنکھوں میں گہرائی تھی اور لہجے میں کشش۔ دونوں ایک مشاعرے میں ملے تھے، جہاں امن نے اپنی نظم پڑھی:
فریحہ نے اس نظم پر بے اختیار داد دی، اور وہیں امن کی نظر اس پر ٹھہر گئی۔ وہ لمحہ دونوں کی زندگی کا ایک نیا موڑ بن گیا۔
شروع میں ان کی ملاقاتیں مختصر ہوتی تھیں۔ یونیورسٹی کی لائبریری میں کتابوں کے درمیان، یا کیفے کے کونے میں چائے کے کپ کے ساتھ۔ بات چیت ادب سے شروع ہو کر زندگی کی گہرائیوں تک پہنچتی گئی۔ امن کو فریحہ کی مسکراہٹ میں سکون ملتا، اور فریحہ کو ایمن کی باتوں میں خوابوں کا رنگ۔
ایک دن، بارش کی رم جھم میں، جب دونوں باغِ جناح میں بیٹھے تھے، امن نے کہا:
"فریحہ، کیا تمہیں یقین ہے کہ محبت صرف افسانوں تک محدود نہیں؟"
فریحہ نے مسکرا کر جواب دیا:
"اگر ایسا ہوتا، تو ہم دونوں یہاں نہ ہوتے۔"
امن نے اس دن دل کی بات کہہ دی:
"میں تم سے محبت کرتا ہوں، فریحہ۔ تم میری نظم ہو، میری ہر کہانی کا آغاز اور اختتام تم سے ہے۔"
فریحہ کی آنکھوں میں نمی تھی، لیکن چہرے پر مسکراہٹ:
"محبت وہ خوشبو ہے جو لفظوں میں قید نہیں کی جا سکتی... میں بھی تم سے محبت کرتی ہوں، امن۔"
یوں ان کی محبت کا سفر شروع ہوا۔ دن مہینوں میں بدل گئے، اور مہینے سال میں۔ ایمن نے ملازمت اختیار کر لی، اور فریحہ نے ایم فل مکمل کیا۔ وہ دونوں اپنی زندگیوں میں مصروف تو ہو گئے، لیکن ایک دوسرے کے لیے وقت نکالنا کبھی نہیں بھولے۔
مگر محبت کا سفر ہمیشہ ہموار نہیں ہوتا۔ ایک دن امن کو اچانک بیرون ملک نوکری کی پیشکش ہوئی۔ تنخواہ بہت اچھی تھی، اور کیریئر کے لحاظ سے بہترین موقع۔ لیکن اس فیصلے کا مطلب تھا فریحہ سے دوری۔
امن نے رات دیر تک جاگ کر سوچا، اور اگلے دن فریحہ سے ملاقات کی۔
"فریحہ، مجھے ایک پیشکش ملی ہے، دبئی سے۔ لیکن میں تذبذب میں ہوں۔ تمہارا ساتھ میرے لیے سب سے اہم ہے۔"
فریحہ نے خاموشی سے اس کا ہاتھ تھاما، اور نرمی سے بولی:
"محبت قربانی کا نام ہے، امن۔ تم جاؤ، اور اپنی کامیابی کی منزلیں طے کرو۔ میں تم پر یقین رکھتی ہوں۔"
امن چلا گیا۔ فاصلے بڑھ گئے، لیکن دل قریب تر ہوتے گئے۔ وہ روزانہ ویڈیو کال کرتے، ای میلز میں نظمیں لکھتے، اور ایک دوسرے کو خط بھیجتے۔ وقت گزرنے لگا، مگر ملاقات کا انتظار بڑھتا گیا۔
آخر وہ دن آیا جب امن واپس آیا۔ اس نے آتے ہی فریحہ کو فون کیا:
"باغِ جناح آؤ، وہی پرانی جگہ، جہاں سب شروع ہوا تھا۔"
فریحہ پہنچی، تو دیکھا امن گلابوں سے سجی ایک بینچ پر بیٹھا ہے، ہاتھ میں ایک چھوٹا سا ڈبہ۔ جب وہ قریب پہنچی، ایمن نے گھٹنوں کے بل بیٹھ کر ڈبہ کھولا، جس میں ایک انگوٹھی چمک رہی تھی۔
"فریحہ، کیا تم میری زندگی کی شریک بنو گی؟"
فریحہ کی آنکھوں میں خوشی کے آنسو تھے:
"امن، تم تو میری زندگی کا خواب ہو، اور آج وہ خواب حقیقت بن گیا۔ ہاں، میں تمہاری ہوں۔"
فضا میں گلابوں کی خوشبو مزید مہکنے لگی، جیسے قدرت بھی ان کی محبت کی گواہ بن رہی ہو۔
'params' : {} };
vvیہ کہانی اس بات کا ثبوت ہے کہ محبت صرف پاس ہونے کا نام نہیں، بلکہ یقین، وفا، قربانی اور ساتھ نبھانے کا نام ہے۔ امن اور فریحہ نے محبت کو صرف محسوس نہیں کیا، بلکہ اسے جیا بھی۔
Comments
Post a Comment