اندھی کھڑکی – حصہ سوم: آخری سایہ
سعد: کراچی میں رہنے والا فائن آرٹس کا طالب علم
خالہ زیب: اس کی تنہا اور قدرے عجیب فطرت کی خالہ
وہ: جس کا نام نہیں… جو صرف تصویر میں قید ہے
سعد یونیورسٹی کی چھٹیوں میں اپنی خالہ زیب کے ہاں حیدرآباد آیا۔ خالہ ایک پرانے بنگلے میں اکیلی رہتی تھیں، اور ان کی عادت تھی کہ ہر آنے والے کو کچھ نہ کچھ عجیب تحفہ دیتی تھیں۔
سعد کو ایک خالی تصویری فریم ملا — پرانا، گرد آلود، لکڑی سے بنا ہوا۔ خالہ نے کہا:
"یہ فریم میں نے کبھی خالی نہیں پایا… مگر آج کل کچھ بدل گیا ہے۔ تم لے جاؤ۔"
سعد ہنسا، اور فریم بیگ میں ڈال لی
کراچی واپس آنے کے بعد سعد نے فریم اپنی میز پر رکھ دیا۔ وہ خالی تھا — واقعی خالی۔
لیکن اگلی رات، جب لائٹ بند کر کے سونے لگا، تو اندھیرے میں فریم تھوڑا سا چمکا۔ جیسے اندر کچھ جھلکا ہو۔ اس نے موبائل کی روشنی سے چیک کیا — فریم اب بھی خالی تھا۔
اگلی صبح، فریم میں ایک دھندلی سی تصویر موجود تھی۔ ایک عورت، دھند میں لپٹی ہوئی، پیچھے درخت، اور ایک پرانا کنواں۔
سعد گھبرا گیا۔ اُس نے کسی تصویر کو اس فریم میں ڈالا ہی نہیں تھا۔
رات کے وقت فریم سے سرگوشی کی سی آوازیں آنے لگیں۔ سعد نے قریب جا کر دیکھا — وہی عورت، مگر اب چہرہ واضح تھا… جلا ہوا، اور آنکھیں کھلی تھیں۔
اچانک تصویر سے آواز آئی:
"مجھے آزاد کرو… میں قید ہوں… یہاں، کنویں کے نیچے۔"
سعد پیچھے ہٹ گیا، ڈر کے مارے فریم کو الماری میں بند کر دیا۔
سعد کو خواب آیا کہ وہ اسی عورت کے ساتھ ایک سنسان جگہ پر ہے، جہاں ایک پرانا کنواں ہے۔ عورت کہتی ہے:
"جب میرا چہرہ مکمل ہو جائے گا… میں باہر آ جاؤں گی… پھر تم جا نہیں پاؤ گے۔"
سعد کی آنکھ کھلی، پسینے میں شرابور۔ فریم دوبارہ میز پر پڑا تھا — حالانکہ وہ اسے الماری میں بند کر چکا تھا۔
اب تصویر میں کنواں زیادہ واضح تھا… اور عورت کے چہرے کا جلا ہوا حصہ تھوڑا کم ہو چکا تھا۔
سعد خالہ زیب کو کال کرتا ہے۔ وہ کہتی ہیں:
"میں نے تمہیں وہ فریم اس لیے دیا تھا تاکہ وہ مجھ سے دور ہو… اب وہ تمہارے ساتھ بندھی ہے۔ اُس کی تصویر کبھی مکمل مت ہونے دینا!"
سعد فریم کو پھاڑنے کی کوشش کرتا ہے، مگر لکڑی فولاد جیسی سخت ہو چکی ہے۔ اور تصویر… اب مکمل ہونے کے قریب ہے۔
آدھی رات، سعد کی کھڑکی از خود کھلتی ہے۔ فریم میں اب وہ عورت کھڑی نہیں — خالی پس منظر، کنواں اور درخت ہی باقی رہ گئے ہیں۔
اور سعد کے پیچھے… وہ سانس لینے کی آواز، دھیرے سے قدموں کی چاپ، اور ایک سرگوشی:
"اب فریم تم ہو… تم قید ہو…"
صبح جب سعد کے کمرے کا دروازہ توڑا گیا، اندر کوئی نہیں تھا۔ صرف فریم میز پر رکھا تھا — اور اُس میں اب ایک نئی تصویر تھی۔
سعد، دھند میں کھڑا، پیچھے کنواں، اور اس کے چہرے پر خوف کے آثار۔
یہ فریم اب بھی موجود ہے — کوئی نہیں جانتا کہاں۔ شاید کسی پرانی دکان میں، شاید کسی خالہ کے گھر… شاید آپ کے گھر میں۔
بس ایک بات یاد رکھنا:
کبھی کسی خالی فریم کو کم مت سمجھنا… ہو سکتا ہے وہ خالی نہ ہو۔
Comments
Post a Comment