اندھی کھڑکی – حصہ سوم: آخری سایہ
گاؤں کے کنارے پر ایک پرانا سا مکان تھا، جس میں ایک بوڑھا شخص، حاجی احمد، تنہا رہتا تھا۔ اس کے چہرے پر وقت کی جھریاں اور آنکھوں میں گہری خاموشی بسی ہوئی تھی۔ لوگ کہتے تھے کہ حاجی احمد کے پاس ایک صندوق ہے جس میں اس کا قیمتی خزانہ چھپا ہے۔ مگر آج تک کسی نے وہ صندوق دیکھا نہیں تھا۔
گاؤں کے بچوں میں اس بات کو لے کر بڑی دلچسپی تھی۔ اکثر وہ حاجی احمد کے دروازے کے باہر جھانکتے، لیکن کبھی ہمت نہ ہوئی کہ اندر جائیں۔ حاجی احمد کم گو تھا، لیکن ایک راز اس کی زندگی میں دفن تھا۔
ایک دن گاؤں کے ایک نوجوان، فراز، نے ہمت کی اور حاجی احمد کے دروازے پر دستک دی۔ حاجی احمد نے دروازہ کھولا تو اس کی آنکھوں میں حیرت کی جھلک تھی۔
"کیا کام ہے، بیٹے؟"
فراز نے ادب سے جواب دیا، "حاجی صاحب، میں آپ سے کچھ سیکھنا چاہتا ہوں۔ لوگ کہتے ہیں کہ آپ کے پاس خزانہ ہے، لیکن میں وہ خزانہ نہیں، آپ کی کہانیاں سننا چاہتا ہوں۔"
یہ سن کر حاجی احمد کے لبوں پر ہلکی سی مسکراہٹ آ گئی۔
"آجاؤ، اندر آجاؤ۔"
فراز اندر داخل ہوا۔ گھر میں ایک خاص سی خاموشی تھی۔ دیواروں پر پرانے فریموں میں سیاہ و سفید تصاویر لٹک رہی تھیں۔ کمرے کے کونے میں ایک بڑا سا لکڑی کا صندوق رکھا تھا، جس پر کئی تالے لگے ہوئے تھے۔
حاجی احمد نے چائے بنائی اور دونوں بیٹھ گئے۔
"بیٹا، خزانے کی باتیں تو لوگوں کی زبان کا ذائقہ ہیں۔ اصل خزانہ وقت ہوتا ہے، اور وہ کہانیاں جو وقت کے ساتھ جڑی ہوں۔"
پھر اس نے اپنی کہانی سنانا شروع کی:
"یہ صندوق میرے باپ کا تھا۔ وہ ایک کاریگر تھا، اور دنیا بھر سے چیزیں لا کر یہاں محفوظ کرتا۔ جب وہ دنیا سے رخصت ہوا، تو اس نے مجھے یہ صندوق دیا۔ اس نے کہا کہ اس میں تمہارے کام کی ہر چیز ہے، مگر یہ تب کھلے گا جب تم آخری چابی پا لو گے۔"
فراز حیران ہوا، "آخری چابی؟ وہ کیا ہے؟"
حاجی احمد نے مسکرا کر کہا، "یہی تو تمہیں معلوم کرنا ہے۔"
فراز نے اگلے کئی ہفتے حاجی احمد کے ساتھ گزارے۔ وہ ہر روز اس سے نئی کہانیاں سنتا، نئی چیزیں سیکھتا۔ کبھی وہ لکڑی کا کام کرتا، کبھی پرانی کتابیں پڑھتا، کبھی پرانی گھڑیوں کو درست کرنے کی کوشش کرتا۔
ایک دن، حاجی احمد نے اسے ایک چھوٹا سا لکڑی کا ڈبہ دیا۔
"یہ لو، تمہارے لیے ایک تحفہ۔ اسے تب کھولنا جب تم سمجھو کہ تم آخری چابی کے قابل ہو۔"
فراز نے وہ ڈبہ اپنے کمرے میں رکھ لیا۔ وہ جانتا تھا کہ یہ ایک آزمائش ہے۔
وقت گزرتا گیا۔ حاجی احمد کی طبیعت دن بہ دن بگڑتی گئی۔ ایک دن وہ فراز کو بلا کر کہنے لگا:
"بیٹا، اب میرا وقت قریب ہے۔ لیکن میں مطمئن ہوں کہ تم نے وہ کچھ پا لیا ہے جو تمہیں چاہیے تھا۔"
فراز کی آنکھیں نم ہو گئیں۔
"لیکن حاجی صاحب، وہ آخری چابی؟"
حاجی احمد نے کمزور آواز میں کہا، "وہ تمہارے دل میں ہے۔ جو کچھ تم نے سیکھا، وہی اصل چابی ہے۔"
کچھ دن بعد، حاجی احمد دنیا سے رخصت ہو گیا۔ گاؤں والوں نے اس کے گھر کا سامان سمیٹنا شروع کیا، لیکن صندوق تک کوئی نہ جا سکا۔ سب نے فراز سے کہا کہ وہ اب اس صندوق کا حق دار ہے۔
فراز نے حاجی احمد کا دیا ہوا ڈبہ کھولا۔ اس میں ایک پرچی تھی جس پر لکھا تھا:
"جب تم اپنے علم، صبر، اور محبت کو سمجھ لو، تب تم صندوق کھولنے کے قابل ہو جاؤ گے۔"
فراز نے آہستہ سے صندوق کے تالے کو چھوا۔ حیرت انگیز طور پر، تالہ کھل گیا۔ اندر پرانی کتابیں، خطوط، پرانے سکے، اور یادوں کی تصویریں تھیں۔ کوئی سونا چاندی نہیں تھا، لیکن ایک دنیا تھی — علم، ہنر، اور محبت کی۔
فراز نے وہ سب کچھ گاؤں کے اسکول کو عطیہ کر دیا، اور خود استاد بن گیا۔ لوگ اب اسے "نوجوان حاجی احمد" کہتے تھے۔
اصل خزانہ دولت نہیں، علم، تجربہ اور محبت ہے۔ بعض چابیاں تالے نہیں، دل کھولتی ہیں۔
Comments
Post a Comment