اندھی کھڑکی – حصہ سوم: آخری سایہ
لاہور کے اندرون شہر میں ایک صدی پرانی لائبریری ہے، جسے "حکمت خانہ" کہا جاتا ہے۔ لوگ کہتے ہیں کہ اس لائبریری میں مغل دور کے خفیہ دستاویزات اور کتابیں موجود ہیں، مگر وہ عام لوگوں کے لیے دستیاب نہیں۔
علی حسن، ایک تاریخ کے طالبعلم، کو ہمیشہ مغل دور کی سیاست اور درباری سازشوں میں دلچسپی رہی۔ ایک دن اسے لائبریری کے ایک پرانے کمرے میں داخل ہونے کا اتفاق ہوا، جہاں پرانی کتابوں کی ایک قطار کے پیچھے ایک چھوٹا دروازہ چھپا ہوا تھا۔
دروازے پر کوئی تالا نہیں تھا، بس مٹی اور وقت کی تہیں جمی ہوئی تھیں۔ اندر داخل ہوتے ہی علی کو ایک عجیب سی خوشبو آئی—جیسے پرانے کاغذ، عود اور زنگ آلود لوہے کی۔
کمرے کے وسط میں ایک لکڑی کا بوسیدہ صندوق پڑا تھا، جس پر فارسی زبان میں کچھ لکھا ہوا تھا:
> "راز جو سچ میں چھپایا گیا ہو، وہ وقت کو بھی شکست دے دیتا ہے۔"
علی نے بڑی احتیاط سے صندوق کھولا۔ اندر ایک خستہ حال چمڑے کا لفافہ تھا، جس میں پرانا نقشہ، چند خطوط اور ایک چاندی کی مہر موجود تھی۔ نقشے پر دہلی کے قلعۂ لال کا خاکہ بنا ہوا تھا، مگر اس میں ایک خفیہ کمرے کا نشان بھی موجود تھا جو آج کے کسی بھی نقشے میں نہیں ملتا۔
خطوط فارسی اور ترکی زبان میں تھے۔ علی نے اپنے استاد ڈاکٹر فرید کے ساتھ مل کر ان خطوط کا ترجمہ کیا۔
خطوط بادشاہ شاہ جہاں کے خاص کاتب کی جانب سے لکھے گئے تھے، جن میں ذکر تھا ایک خفیہ خزانے کا جو شہزادی جہاں آرا نے شاہی محل کے نیچے چھپایا تھا۔ کہا جاتا تھا کہ یہ خزانہ صرف حفاظت کے لیے نہیں، بلکہ ایک خفیہ تحریر کو محفوظ رکھنے کے لیے چھپایا گیا تھا—ایسی تحریر جو سلطنت کی بنیادیں ہلا سکتی تھی۔
علی اور ڈاکٹر فرید نے فیصلہ کیا کہ وہ دہلی جا کر اس نقشے کی مدد سے قلعہ لال کے نیچے تحقیق کریں گے۔ کچھ ہفتے بعد، وہ دہلی پہنچے اور پرمٹ حاصل کر کے قلعے کا دورہ شروع کیا۔
نقشے کے مطابق، ایک مخصوص ستون کے نیچے خفیہ راستہ تھا۔ کئی گھنٹوں کی تلاش کے بعد، آخرکار وہ ایک پرانی اینٹوں سے بنی دیوار کے پیچھے چھپی ایک درز تک پہنچ گئے۔ کچھ جھاڑو اور کوشش سے ایک تہہ خانے کا دروازہ کھل گیا۔
تہہ خانے میں ایک اور صندوق پڑا تھا۔ اس بار صندوق لوہے کا تھا، اور اس پر مغل نشان کندہ تھا۔ جیسے ہی انہوں نے صندوق کھولا، ایک زوردار آواز آئی، جیسے صدیوں کی خاموشی ٹوٹ گئی ہو۔
صندوق کے اندر ایک مخملی کپڑے میں لپٹا ہوا ایک خط تھا۔ یہ شہزادی جہاں آرا کا ذاتی خط تھا، جو اس نے اپنے بھائی اورنگزیب کے خلاف لکھا تھا۔
> "اے مستقبل کے قاری، جان لو کہ جو کچھ تاریخ میں لکھا گیا ہے، وہ سچ نہیں، بلکہ طاقت کی خواہش کا چہرہ ہے۔ میرے والد کو قید کرنے والا، میرے بھائی دارا کو قتل کرنے والا، اورنگزیب صرف ظاہراً پارسا تھا۔ اصل راز اس کی مکاری، دھوکہ اور خود غرضی میں چھپا ہے۔"
یہ خط سلطنت مغلیہ کی اصل تاریخ کو بدلنے کی طاقت رکھتا تھا۔
ساتھ ہی ایک خفیہ مہر شدہ دستاویز بھی تھی، جس میں شاہ جہاں نے دارا شکوہ کو اپنا جانشین مقرر کیا تھا—مگر اورنگزیب نے اس دستاویز کو چھپا کر خود تخت سنبھال لیا۔
علی اور ڈاکٹر فرید نے فیصلہ کیا کہ وہ یہ معلومات منظر عام پر لائیں گے۔ مگر جیسے ہی وہ واپس دہلی کے ہوٹل پہنچے، ان کے کمرے کی تلاشی لی جا چکی تھی۔ خط اور مہر چوری ہو چکی تھیں۔
اگلے روز، ڈاکٹر فرید لاپتہ ہو گئے۔
علی نے پولیس کو رپورٹ کی، مگر کوئی سننے والا نہ تھا۔ اسے خبردار کیا گیا کہ یہ معاملہ ریاستی تاریخ اور مذہبی جذبات سے جڑا ہے—اور اگر وہ اپنی جان بچانا چاہتا ہے تو خاموشی اختیار کرے۔
علی نے اپنی تحقیق کو خفیہ رکھا، اور آج بھی وہ اپنے بلاگ پر مختلف مغلیہ رازوں پر لکھتا ہے، مگر شاہی صندوق کا راز وہ اب تک مکمل طور پر نہیں کھول سکا۔
کہا جاتا ہے کہ اصل دستاویز آج بھی کہیں موجود ہے—شاید کسی خفیہ خزانوں کی گپھا میں، یا پھر کسی محافظ کے سینے میں دفن۔
اور شاید... تاریخ ایک دن پھر سے لکھی جائے گی۔
Comments
Post a Comment