اندھی کھڑکی – حصہ سوم: آخری سایہ

Image
 اندھی کھڑکی – حصہ سوم: آخری سایہ پہلا منظر – دو سال بعد دو سال گزر چکے تھے۔ نانی کا گھر بیچ دیا گیا۔ مگر اب، شہر میں، ایک نیا فلیٹ — "گل ریذیڈنسی" — میں پراسرار واقعات شروع ہو گئے۔ کمرے میں چیزیں خودبخود گرنے لگیں، آئینے دھندلا جاتے، اور سب سے زیادہ خوفناک بات — بچوں کے ہاتھوں پر "G" لکھا ہوا ملتا۔ اس فلیٹ میں ایک نیا جوڑا شفٹ ہوا: ڈاکٹر ہمایوں اور اس کی بیوی ریحانہ، جو ایک بچے کے منتظر تھے۔ ریحانہ کو ہر رات خواب آتا: > "ایک کھڑکی… خون… اور ایک لڑکی جو چیخ رہی ہے: 'مجھے مت کھولو… مجھے مت دیکھو… وہ دیکھ رہا ہے…'" --- اندھی کھڑکی کا نیا روپ: ریحانہ نے فلیٹ کے اسٹور روم کی صفائی کی۔ وہاں ایک پرانی لکڑی کی کھڑکی پڑی تھی — زمین سے نکلی ہوئی، جیسے کسی قبر سے نکالا گیا ہو۔ کھڑکی پر دھند سے لکھا تھا: > "یہاں روشنی نہیں، صرف یادیں باقی ہیں" ریحانہ کو کھڑکی دیکھ کر چکر آنے لگا، اور اسی رات بچے کی حرکت رک گئی۔ ڈاکٹرز حیران: "بچہ زندہ ہے… لیکن ماں کے پیٹ میں ساکت، جیسے کوئی اسے روک رہا ہو!" --- علیزہ واپس آتی ہے…؟ ڈاکٹر ہمایوں کی بہن...

جھوٹی گواہی

 جھوٹی گواہی




atOptions = { 'key' : 'e76d8f7238fea9e917391cf1ae0fea86', 'format' : 'iframe', 'height' : 90, 'width' : 728, 'params' : {} };

💑 مشہور عربی حکایت ہے کہ ایک بستی کے لوگ جھوٹ بولنے اور جھوٹی گواہی دینے کے لیئے مشہور تھے۔ اس بستی


 کے ایک مرد و عورت نے خفیہ طور پر نکاح کرلیا۔نکاح شریعت کے مطابق تھا۔۔۔ نکاح، قاضی اور گواہوں کی موجودگی میں ہوا



کچھ عرصے بعد میاں بیوی میں ناچاقی ہوگئی اور شوہر نے بیوی کو گھر سے نکال بھی دیا اور اسے تمام شرعی حقوق سے بھی محروم کردیا


خاتون شہر کے قاضی کے پاس مقدمہ لے کر گئی اور بتایا کہ شوہر نے گھر سے نکال دیا ہے


قاضی نے کہا: 


تمہارے اس نکاح کی توکسی کو خبر ہی نہیں۔ خاتون نے کہا کہ جناب ہمارا نکاح بالکل شریعت کے عین مطابق ھوا۔


قاضی نے پوچھا ۔۔کوئی گواہ ہے؟


جی۔ قاضی صاحب دو گواہ بھی تھے۔ ان ہی کی موجودگی میں یہ نکاح ہوا تھا


قاضی صاحب نے شوہر اور گواہوں کو طلب کرلیا۔ مگر انہوں نے بھری عدالت میں خاتون کو پہچاننے اور نکاح سے صاف  انکار کردیا۔ اور بیک زبان کہا کہ ہم نے تو اج سے پہلے اس خاتون کو کبھی دیکھا تک نہیں


قاضی صاحب نے خاتون، شوہر اور گواہوں کو بیک وقت گہری نظروں سے دیکھتے ہوئے خاتون سے پوچھا۔ کیا تمہارے شوہر کے پاس کتّے ہیں؟



خاتون نے کہا؟ ہاں


قال: هل تقبلين بشهادة الكلاب وحكمهم؟

قاضی نے خاتون سے پوچھا ۔۔کیا اپ کتوں کی گواہی اور ان کے فیصلے کو قبول کرلیں گی؟

قالت: نعم

خاتون نے کہا۔۔جی ۔۔مجھے ان کی گواہی اور فیصلہ قبول ہوگا 


قاضی نے حکم دیا کہ خاتون کو اس شخص کے گھر لے جایا جائے۔۔اگر وہ اس خاتون کو دیکھ کر (اجنبی جان کر)بھونکنے لگیں تو یہ عورت جھوٹی ہے

اور اگر

وہ کتے خاتون کو دیکھ کر، گھر کا فرد سمجھ کر خوش ہوں اور اس کا استقبال کریں تو خاتون کا دعویٰ درست اور شوہر اور گواہ جھوٹے ہیں اور یہ خاتون گھر کی مالکن ہے



یہ حکم جاری کرتے ہی قاضی اور عدالت میں موجود لوگوں نے  شوہر اور گواہوں کی طرف دیکھنا شروع کردیا، جن کے چہرے جھوٹ پکڑے جانے کے خوف سے پیلے پڑ گئے تھے اور جسم کپکپانے لگے تھے


فیصلہ تو ہوچکا تھا کہ کون سچا اور کون جھوٹا ہے


فقال القاضي: اجلدوهم فإنهم يكذبون٠

قاضی صاحب نے سپاہیوں کو حکم جاری کیا

گرفتار کرلو۔ ان جھوٹوں کو اور انہیں کوڑے لگاؤ کہ یہی جھوٹے ہیں



اور اپنے مشاہدے میں کہا :

بئس القرى التي كلابها أصدق من اهلها..

بدترین بستیاں ہیں وہ جن کے باشندوں سے زیادہ ان کے کتے سچے ہیں۔"


Comments

Popular posts from this blog

طلاق: ایک غمگین حقیقت کی کہانی

### **عنوان: "درخت کے نیچے قبر ہے"**

سایہ جو کبھی نہ ہٹا