اندھی کھڑکی – حصہ سوم: آخری سایہ
ماہا: ایک حساس، ذہین مگر یادداشت سے محروم لڑکی
زایر: ایک خاموش مزاج نوجوان جو ماہا کو جانتا ہے… لیکن ماہا اسے نہیں پہچانتی
تھیم: محبت، بھولا ہوا ماضی، اور خود سے ملاقات
سفید دیواریں، خاموش کمرہ، اور ایک خالی نظریں گھورتی لڑکی — ماہا۔
"مجھے کچھ یاد نہیں آتا… میں کون ہوں؟"
وہ ہر صبح یہی سوال کرتی، اور ہر رات نیند سے چیخ کر اٹھتی۔ خواب میں صرف ایک چیز واضح ہوتی — ایک لڑکا، جو اسے دیکھ کر مسکراتا ہے اور کہتا ہے:
"ماہا، تم میرا وعدہ ہو۔"
ماہا کی دیکھ بھال ایک خاص کلینک میں ہو رہی تھی جہاں ڈاکٹرز نے بتایا کہ اسے ایک نفسیاتی صدمہ پہنچا ہے جس کی وجہ سے وہ اپنی یادداشت کھو چکی ہے۔ لیکن حیرت انگیز بات یہ تھی کہ اس کی شخصیت دن بہ دن بدل رہی تھی — ایک دن وہ شاعری کرتی، دوسرے دن گہری خاموشی میں چلی جاتی۔
ایک دن کلینک میں ایک نیا رضا کار آیا — زایر۔ وہ چپ چاپ رہتا، لیکن ماہا کے قریب رہنے کی کوشش کرتا۔ ماہا کو اس کی آنکھوں میں ایک عجیب کشش محسوس ہوتی، جیسے وہ اسے پہلے جانتی ہو… پر کہاں؟ کیسے؟ وہ یاد نہیں آتا۔
زایر نے کبھی ماہا سے پرانی بات نہیں کی، مگر وہ ہر روز اس کے ساتھ بیٹھتا، کتابیں پڑھتا، اور ایک سفید ڈائری میں کچھ لکھتا۔
ماہا نے ایک دن پوچھا:
"تم مجھے اس طرح کیوں دیکھتے ہو؟ جیسے میں کوئی پہیلی ہوں۔"
span>
زایر نے صرف اتنا کہا:
"کیونکہ تم ہی میری کہانی ہو… لیکن تم بھول چکی ہو۔"
ماہا کی حالت بہتر ہونے لگی، مگر ایک دن اس نے زایر کو دیکھتے ہوئے کہا:
"میں نے تمہیں خواب میں دیکھا ہے۔ تم وہی ہو جو مجھے 'وعدہ' کہتا ہے۔"
زایر کے ہاتھ سے کتاب گر گئی۔ اس کی آنکھوں میں نمی آ گئی۔ وہ بولا:
"ہم ایک دوسرے سے محبت کرتے تھے، ماہا۔ ہم شادی کرنے والے تھے۔ لیکن حادثے کے دن ہم دونوں کی گاڑی کا ایکسیڈنٹ ہوا۔ تم بچ گئیں، مگر تمہاری یادیں نہیں بچیں۔"
ماہا کانپ گئی۔ "تو… میرا ماضی تم ہو؟"
زایر نے سر ہلایا، اور وہ سفید ڈائری ماہا کے ہاتھ میں تھما دی۔
ماہا نے وہ ڈائری پڑھی۔ ہر صفحہ زایر کے جذبات، اس کے خواب، اور ماہا کے ساتھ گزرے لمحوں سے بھرا تھا۔ آخری صفحہ پر لکھا تھا:
"اگر تم مجھے کبھی نہ پہچانو، میں تب بھی ہر دن تمہارے ساتھ بیٹھوں گا۔
تم اگر مجھے نام بھی نہ دو سکو، میں تب بھی تمہیں محبت کہوں گا۔"
ماہا کی آنکھوں سے آنسو بہنے لگے۔
"زایر… مجھے کچھ یاد نہیں، مگر دل پہ کچھ لکھا ہے — شاید تمہارا نام۔"
کئی مہینے بعد، ماہا نے آہستہ آہستہ زندگی کی یادیں سمیٹنا شروع کیں۔ کچھ یاد نہ بھی آیا، لیکن ایک نئی محبت جنم لے چکی تھی — جو پچھلی محبت سے بھی زیادہ مضبوط تھی۔
اس بار وہ جان بوجھ کر محبت کر رہی تھی۔ نئی ماہا، نئے احساس کے ساتھ۔
کبھی کبھی انسان خود کو بھول جاتا ہے، مگر سچی محبت اس کے دل پر اپنا نام ہمیشہ کے لیے لکھ جاتی ہے۔
اور اگر محبت سچی ہو… تو ایک دن انسان خود سے بھی دوبارہ محبت کرنا سیکھ لیتا ہے۔
Comments
Post a Comment