اندھی کھڑکی – حصہ سوم: آخری سایہ
دو سال بعد..
یونیورسٹی میں نئے داخلے شروع ہو چکے تھے۔ "بلاک سی" کی اوپری منزل اب مستقل بند تھی۔ مگر ایک دن، ہاسٹل کے وارڈن نے وہ کمرہ — جو کبھی عائشہ اور مریم کا تھا — ایک نئی طالبہ، ہنزلہ کو دے دیا۔
ہنزلہ ایک تجسس پسند، علم کی دیوانی لڑکی تھی۔ شروع کے چند دن عام گزرے، لیکن چوتھے دن وہی سلسلہ شروع ہو گیا — عجیب خواب، سیڑھیاں، سرگوشیاں، اور ایک جملہ:
"مت چڑھنا… آخری سیڑھی مت چڑھنا… مریم جاگ رہی ہے!"
ہنزلہ نے خوابوں کو سنجیدگی سے لیا۔ اس نے بلاک سی کی تاریخ کھنگالنا شروع کی، اور کچھ ایسے نوٹس ملے جو شاید مریم نے آخری دنوں میں لکھے تھے۔ ان میں لکھا تھا:
> "یہ صرف سیڑھی نہیں… یہ ایک دروازہ ہے۔ جو اس پر قدم رکھتا ہے، اُس کا جسم یہیں رہتا ہے، مگر روح پھنس جاتی ہے۔"
> "میں عائشہ کو واپس لا چکی ہوں، مگر اب میں آخری نگہبان ہوں۔ جب تک کوئی میرا مقام نہ لے، میں قید رہوں گی…"
ہنزلہ نے فیصلہ کیا — وہ اس سلسلے کو ختم کرے گی۔ مگر کیسے؟
ہنزلہ نے اس کمرے کی دیوار کے اندر ایک بند لکڑی کی الماری میں ایک اور ڈائری پائی — یہ کسی قدیم عامل کی تھی، جس نے "آخری سیڑھی" پر سحر باندھا تھا تاکہ وہاں سے روحوں کی تجارت کی جا سکے۔
اس نے لکھا تھا:
> "ایک ایسی سیڑھی بنائی گئی ہے جہاں آخری قدم پر زمان و مکان مٹ جاتے ہیں۔ جو روح وہاں جاتی ہے، وہ زندہ روحوں کے خوابوں میں ظاہر ہو کر اپنا راستہ تلاش کرتی ہے۔ اگر نگہبان کو ہٹانا ہے تو اُس سے جنگ کرنی ہو گی۔ خواب میں، اُس کی ہی دنیا میں…"
ہنزلہ نے مخصوص عمل پڑھا اور مریم کی دنیا میں داخل ہو گئی — خواب کی سیڑھیاں، سناٹا، اور دھند۔
مریم اب مکمل طور پر بدل چکی تھی — اس کی آنکھیں سیاہ، چہرہ بے تاثر، آواز گونجدار:
"میں نگہبان ہوں… تم آئی ہو میرا قلعہ چھیننے؟"
ہنزلہ نے کہا: "نہیں، میں تمہیں آزاد کرنے آئی ہوں۔"
مریم ہنسی: "آزادی؟ صرف موت دیتی ہے آزادی!"
پھر ایک عجیب جنگ شروع ہوئی۔ مریم کا سایہ ہنزلہ کے اردگرد لپکا، دیواریں ٹوٹنے لگیں، سیڑھیاں گرنے لگیں، اور ہر طرف دھماکے ہونے لگے۔ ہنزلہ نے وہی کتاب کھولی جو عامل کی تھی — اور اُس پر خون کے آخری الفاظ سے عمل پڑھا:
"آخری نگہبان، اپنے وقت کا اختتام قبول کر!"
ایک زوردار روشنی ہوئی۔ چیخیں، آنسو، سایے بکھر گئے۔
جب ہنزلہ آنکھ کھولی — وہ اپنے کمرے میں تھی۔ دیواروں پر خون کے نشان تھے، مگر سب کچھ خاموش تھا۔
اور اب، ہاسٹل میں پہلی بار، سیڑھیوں کی آخری پَیڑھی ٹوٹ چکی تھی۔
عائشہ، مریم، سب جا چکے تھے… ہمیشہ کے لیے۔
کمرہ بند کر دیا گیا۔ سیڑھیاں ختم کر دی گئیں۔ مگر ہنزلہ جانتی تھی — اگر کوئی دوبارہ "سیڑھی" بنانے کی کوشش کرے… تو ایک نیا نگہبان پھر جنم لے گا۔
سوال یہ ہے: کیا خوف ختم ہوتا ہے؟ یا صرف روپ بدلتا ہے؟
Comments
Post a Comment