اندھی کھڑکی – حصہ سوم: آخری سایہ
زویا اب آئینے کے اندر قید ہے۔ آس پاس سب کچھ آئینہ جیسا ہے — پلٹا ہوا، خاموش، اور ٹھنڈا۔ دیواریں شفاف ہیں، اور ہر طرف اُس کے عکس کی پرچھائیاں گردش کر رہی ہیں۔
وہ چیختی ہے، چلاتی ہے، مگر باہر کی دنیا کچھ نہیں سنتی۔
اسے صرف ایک چیز دکھائی دیتی ہے — "عکس زویا"، وہ جو اب باہر کی دنیا میں اُس کی جگہ لے چکی ہے… اور ہر دن کچھ زیادہ "غیر انسانی" ہوتی جا رہی ہے۔
atOptions = { 'key' : 'e76d8f7238fea9e917391cf1ae0fea86', 'format' : 'iframe', 'height' : 90, 'width' : 728, 'params' : {} };
باہر کی دنیا میں زویا اب بالکل مختلف ہے — وہ کم بولتی ہے، عجیب طریقے سے مسکراتی ہے، اور لوگوں کو آئینے میں گھور کر کچھ دیر رکنے کو کہتی ہے۔
ایک دن اُس کی دوست، انعم، نے اسے آئینے میں دیکھتے ہوئے پایا — اور اُس کے پیچھے… دوسری زویا کی آنکھیں جھانک رہی تھیں، جو بس ایک موقع کی تلاش میں تھیں۔
انعم کو شک ہوا اور اُس نے زویا کے کمرے کی پرانی ڈائریاں پڑھنا شروع کیں۔ ایک صفحے پر زویا نے لکھا تھا:
> "اگر میں کبھی بدلے ہوئے لہجے میں بات کروں، یا تمہیں آئینے سے بچنے کو کہوں… تو مجھ پر یقین کرنا۔
ہو سکتا ہے وہ میں نہ ہوں…"
انعم نے فیصلہ کیا — وہ آئینے کو توڑے گی۔ مگر آئینے کو کوئی عام چیز نہیں توڑ سکتی تھی۔
جب انعم نے آئینے پر ہتھوڑا مارا — عکس زویا چیخی، مگر شیشہ نہیں ٹوٹا۔ بلکہ انعم کی آنکھوں کے سامنے منظر بدلنے لگا۔
اب وہ خود آئینے کے اندر تھی، اور زویا بھی۔
اصل زویا نے انعم کا ہاتھ تھاما اور کہا:
"یہ صرف ایک آئینہ نہیں… یہ پورا جال ہے۔ آئینے کی دنیا ہر اُس شخص کو کھینچ لیتی ہے جو حقیقت کی تہہ تک جانا چاہتا ہے۔"
اصل زویا اور انعم کو صرف ایک راستہ دیا گیا:
> "تم دونوں میں سے ایک واپس جا سکتی ہے… دوسری کو ہمیشہ کے لیے عکس بن کر رہنا ہوگا۔"
انعم خاموش رہی، مگر زویا نے آگے بڑھ کر کہا:
"انعم جائے… میں یہاں رہوں گی۔"
لیکن آئینے نے قہقہہ لگایا:
"محبت کی قربانی؟ یہ یہاں نہیں چلتی… ہم چہروں سے کھیلتے ہیں، جذبوں سے نہیں!"
اور اگلے لمحے… دونوں کو باہر پھینک دیا گیا۔
اب، دونوں زویا کی طرح لگتی ہیں۔ دونوں ایک جیسا بولتی ہیں۔ دونوں اپنی کہانی کو سچ مانتی ہیں۔
مگر صرف ایک ہی اصل زویا ہے…
اور آئینہ جانتا ہے — جلد یا بدیر، دوسرا چہرہ پھر اندر بلایا جائے گا۔
کبھی کبھی، آئینہ صرف عکس نہیں دکھاتا — وہ فیصلے لیتا ہے۔
کیا آپ آج رات آئینے میں اپنی آنکھوں میں خود کو پہچان پائیں گے؟
Comments
Post a Comment