اندھی کھڑکی – حصہ سوم: آخری سایہ
نائلہ نے جب شہر کے پرانے حصے میں نیا گھر خریدا تو سب نے اسے روکا۔
"وہ گھر آسیب زدہ ہے، بی بی۔ اس میں کوئی رہتا نہیں۔"
لیکن نائلہ کو یقین نہیں آیا۔
وہ خود ایک اسکول ٹیچر تھی، پڑھنے پڑھانے والی۔ بھوت، آسیب، سایے — یہ سب اس کے لیے صرف دیہاتی کہانیاں تھیں۔
گھر واقعی خوبصورت تھا۔ پرانا، کشادہ صحن، اونچی دیواریں، اور درمیان میں ایک خشک کنواں۔
لیکن وہ پہلا دن ہی عجیب تھا۔
جب وہ سامان اندر لے جا رہی تھی، اسے محسوس ہوا جیسے کوئی دروازے کے قریب کھڑا ہے۔
جب وہ پلٹی — وہاں کوئی نہیں تھا۔
مگر صحن میں، کنویں کے پاس، زمین گیلی تھی… جیسے وہاں کسی نے دیر تک کھڑے ہو کر پانی ٹپکایا ہو۔
نائلہ نے خواب میں دیکھا — ایک آدمی، لمبے سفید کپڑے میں، کنویں کے پاس کھڑا ہے۔ چہرہ دھندلا، آنکھیں سیاہ جیسے جلی ہوئی راکھ ہوں۔
وہ بس اُسے دیکھ رہا تھا۔ کچھ کہے بغیر۔
صبح جب وہ جاگی، تو کنویں کے پاس گیلی مٹی میں پاؤں کے نشان تھے۔
اب دروازے خود بخود کھلنے لگے۔
کبھی صحن کا دروازہ، کبھی باورچی خانے کا۔
ایک رات تو باتھ روم کا آئینہ خودبخود ٹوٹ گیا — اور اس پر کسی نے ناخنوں سے لکھا تھا:
"یہ گھر میرا ہے"
نائلہ نے مولوی صاحب کو بلوایا۔
وہ گھر میں داخل ہوتے ہی رک گئے۔
"یہاں صرف آسیب نہیں… یہاں کسی کی قید ہے۔ وہ یہاں بند ہے… اور تم نے اسے جگا دیا۔"
"اس کنویں میں کسی کو زبردستی دفن کیا گیا تھا — زندہ۔ وہ اب جاگ چکا ہے۔"
مولوی نے ایک تعویذ دیا، لیکن جاتے جاتے صرف ایک جملہ کہا:
"اگر وہ تمہیں رات کے وقت صحن میں دیکھ لے… تو وہ تمہیں لے جائے گا۔"
نائلہ نے صحن کی کھڑکی سے باہر جھانکا۔
وہ تھا۔
کنویں کے پاس، ساکت کھڑا — سفید لباس میں، سر تھوڑا سا جھکا ہوا، جیسے انتظار میں ہو۔
نائلہ نے کھڑکی بند کر دی۔ سانس تیز۔ دل جیسے باہر نکل آئے گا۔
دروازہ خود بخود کھلا۔
قدموں کی آواز… آہستہ آہستہ اندر داخل ہوتی ہوئی…
ٹھک… ٹھک… ٹھک…
وہ پلٹی۔ پیچھے کوئی نہیں تھا۔
لیکن کمرے کے کونے میں پانی ٹپک رہا تھا۔
نائلہ نے خود کو کمرے میں بند کر لیا۔
آئینے ڈھانپ دیے۔ لائٹ جلا لی۔ قرآن کھول کر بیٹھ گئی۔
مگر جیسے ہی رات کے ساڑھے تین بجے، کمرے کی لائٹ بجھ گئی۔
دروازہ کھلا۔
صحن کی طرف سے آواز آئی:
"آؤ…"
"میں انتظار کر رہا ہوں…"
صبح ملازمین نے آ کر دروازہ کھولا۔
نائلہ غائب تھی۔
گھر خالی تھا، مگر کنویں کے پاس زمین گیلی تھی۔ وہاں ایک نئی قبر بنی ہوئی تھی — بغیر کتبے کے۔
بس ایک پتھر پر ناخن سے لکھا تھا:
"اب وہ بھی صحن میں کھڑی رہتی ہے۔"
آج بھی، رات کے پچھلے پہر اگر کوئی اس گھر کے پاس سے گزرے،
تو کھڑکی سے ایک عورت کو جھانکتے دیکھ سکتا ہے —
خاموش، ساکت، راکھ جیسی آنکھوں کے ساتھ۔
اور کنویں کے پاس؟
اب دو سائے کھڑے ہوتے ہیں۔
Comments
Post a Comment