اندھی کھڑکی – حصہ سوم: آخری سایہ
مریم کو "بلاک سی" میں آئے ایک ہفتہ گزر چکا تھا، مگر نیند اس کی دشمن بن چکی تھی۔ وہی خواب ہر رات اسے پریشان کرتا:
"آخری سیڑھی مت چڑھنا…"
مگر اب خواب میں کچھ نیا تھا۔ خواب میں ایک لڑکی چیختی تھی، جیسے کسی اندھیرے میں قید ہو۔ مریم کا دل عجیب سا ہونے لگا۔ خواب میں وہ لڑکی پکارتی:
"مجھے نکالو… میں زندہ ہوں… میں عائشہ ہوں!"
یہ نام سن کر مریم چونک گئی۔ اُس نے ہاسٹل میں لوگوں سے پوچھا تو سب خاموش ہو گئے۔ کچھ نے بتایا، کچھ نے صرف اتنا کہا: "یہاں ایک لڑکی لاپتہ ہوئی تھی… اسی کمرے سے۔"
ایک رات مریم کے کمرے کی ایک دیوار سے آہٹ آئی۔ جیسے کوئی ناخنوں سے اندر سے دیوار کو کھرچ رہا ہو۔ اُس نے کان لگایا تو دبے دبے الفاظ سنے:
"سیڑھی… آخری سیڑھی… مجھے باہر نکالو…"
مریم نے دوسرے دن اُس دیوار کو کھٹکھٹایا، تو آواز کھوکھلی لگی۔ اُس نے شکایت درج کرائی، تو مستری آیا — اور جب دیوار کا ایک حصہ توڑا، اندر ایک پرانی کتاب اور خون سے بھرا ایک چھوٹا ڈبہ نکلا۔
کتاب میں کالا سحر (Black Magic) درج تھا، اور اس پر کسی نے خون سے لکھا تھا:
"جسے آخری سیڑھی چھو جائے، وہ ہمیشہ قید ہو جائے…"
مریم نے فیصلہ کیا کہ وہ اوپری منزل جائے گی اور سچائی کا سامنا کرے گی۔ اُسی رات وہ دوبارہ سیڑھیوں کی طرف گئی — وہی سنّاٹا، وہی سرگوشیاں۔
مگر اس بار وہ اکیلی نہیں تھی۔ اُس نے اپنے موبائل پر ریکارڈنگ آن کر رکھی تھی۔ وہ سیڑھی چڑھی، اور آخری سیڑھی پر قدم رکھتے ہی اُس کے اردگرد کی دنیا بدل گئی۔
روشنی بجھ گئی۔ زمین ہلنے لگی۔ دیواروں سے سائے نکلنے لگے۔
اور تب… اُس کے سامنے وہی لڑکی آئی — مٹی اور خون میں لت پت — عائشہ!
"تم آئی ہو… مگر دیر کر دی۔ اب تم بھی قید ہو گئی ہو…"
عائشہ نے رو کر بتایا کہ وہ دنیا میں زندہ ہے، مگر اُس کا وجود ایک سیاہ جادو کی وجہ سے پھنس چکا ہے۔ اور اسے آزاد کرنے کے لیے کسی دوسرے کی "روح" چاہیے۔
مریم سمجھ گئی۔ اگر وہ بچنا چاہے، تو عائشہ ہمیشہ قید رہے گی۔ مگر اگر وہ اپنی جان قربان کر دے، تو عائشہ واپس آ سکتی ہے۔
اُس نے آنکھیں بند کیں، اور بولا: "میں اسے آزاد کرتی ہوں…"
اگلی صبح، ہاسٹل میں ہنگامہ مچ گیا۔ عائشہ، جو مہینوں سے لاپتہ تھی، بے ہوشی کی حالت میں اپنے پرانے کمرے میں ملی۔ مگر مریم کا کوئی نشان نہ تھا۔
بس اس کا موبائل فرش پر پڑا تھا، اور اس میں ایک آخری ریکارڈنگ تھی۔ وہی سیڑھیوں کی آواز… اور پھر ایک آخری جملہ:
"اب میں آخری سیڑھی کی رکھوالی ہوں…"
کبھی کبھار، کوئی واپس آتا ہے… لیکن جو چھوڑ کر جاتا ہے، وہ ایک نیا دروازہ کھولتا ہے۔
کیا تم جاننا چاہتے ہو… اب مریم کس کے خواب میں آئے گی؟
Comments
Post a Comment