اندھی کھڑکی – حصہ سوم: آخری سایہ
ماہم اور اس کا خاندان حال ہی میں شہر کے مصروف ماحول سے دور ایک پرانے دیہی علاقے میں منتقل ہوئے تھے۔ ان کے والد کو یہاں ایک سرکاری اسکول میں تعیناتی ملی تھی، اور مالی حالات کے سبب انہوں نے ایک پرانا، مگر کشادہ مکان کرائے پر لے لیا۔ یہ گھر ایک چھوٹی سی پہاڑی پر واقع تھا، جس کے اردگرد بڑے درخت اور پرانے کنویں جیسی چیزیں تھیں۔
محلے کے لوگوں کا کہنا تھا کہ یہ مکان "خالی ہی اچھا ہے" — لیکن ماہم کے والد نے یہ کہہ کر بات ٹال دی کہ "یہ سب دقیانوسی باتیں ہیں۔"
پہلی ہی رات ماہم کو عجیب خواب آیا۔ وہ خواب میں خود کو اسی گھر کی نچلی منزل پر دیکھتی ہے جہاں ایک دروازہ ہے — بند، مگر اس کے پیچھے سے کسی کے چلنے کی آوازیں آتی ہیں۔ دروازے پر خراشوں کے نشان ہیں جیسے کسی نے باہر نکلنے کی بہت کوشش کی ہو۔
صبح ماہم نے خواب کا ذکر اپنی ماں سے کیا، تو ماں نے ہنستے ہوئے کہا،
"نیا گھر ہے، دماغ عادت ڈال رہا ہے۔"
مگر اسی رات ماہم کے چھوٹے بھائی اذان نے بھی کچھ عجیب سنا۔
"آپی، رات کو کسی نے میرے کان میں کہا: 'یہ میرا کمرہ ہے۔'"
ماہم نے چونک کر اسے دیکھا۔ "کیا کہا؟ دوبارہ کہو؟"
اذان نے سنجیدگی سے سر ہلایا:
"واقعی۔ وہ دروازے کے پاس کھڑا تھا۔"
ماہم نے گھر کا جائزہ لینا شروع کیا۔ ایک پرانا تہہ خانہ تھا جس کا دروازہ ہمیشہ بند رہتا تھا، اور اس پر زنگ آلود تالا لگا تھا۔ ماہم کو وہی تالا خواب میں نظر آیا تھا۔
ایک دن جب سب گھر سے باہر تھے، ماہم نے تجسس سے وہ تالا چابیوں کے گچھے سے کھول لیا۔ دروازہ چیختا ہوا کھلا اور اندر سے ٹھنڈی ہوا کا جھونکا آیا۔ تہہ خانے میں ایک پرانا جھولا، مٹی سے ڈھکا آئینہ، اور دیوار پر ایک خفیہ تحریر لکھی ہوئی تھی:
"جو نیند میں آئے، وہ جاگنے نہ پائے…"
اس رات، ماہم کی نیند اڑ گئی۔ اسے ہر کمرے میں کسی کے چلنے کی آہٹ محسوس ہوتی۔ آئینہ خودبخود دھندلا جاتا، اور اذان نیند میں بولتا:
"وہ واپس آ گئی ہے… وہ اپنی چیزیں لینے آئی ہے۔"
ماہم نے آئندہ دنوں میں کچھ پرانے کاغذات کھنگالے۔ پتا چلا کہ اس گھر کی ایک سابقہ مکین، ایک عورت "زیبا" تھی جو اپنے شوہر کے انتقال کے بعد نفسیاتی بیماری کا شکار ہو گئی تھی۔ ایک رات وہ غائب ہو گئی اور پھر کبھی نہیں ملی۔
لوگوں کا ماننا تھا کہ زیبا نے خود کو تہہ خانے میں بند کر لیا تھا… اور وہیں اس کی موت ہوئی۔
ایک رات، ماہم نے محسوس کیا کہ تہہ خانے کا دروازہ خودبخود کھل گیا ہے۔ اس نے ہمت کر کے نیچے جانے کا فیصلہ کیا۔ ہاتھ میں قرآن کی تلاوت کرتے ہوئے وہ تہہ خانے میں داخل ہوئی۔ آئینے میں اچانک زیبا کی شبیہ ابھری — آنکھوں میں آنسو، چہرے پر غصہ۔
"میرا کمرہ… میری نیند… کیوں جاگی تم؟"
ماہم نے بلند آواز سے اذان دی۔ زیبا کی شبیہ چیخ مار کر غائب ہو گئی، اور جھولا زور سے ہلنے لگا۔
اگلے دن والد نے گھر چھوڑنے کا فیصلہ کر لیا۔
گھر چھوڑتے وقت ماہم نے پیچھے مڑ کر دیکھا۔ کھڑکی میں ایک دھندلا سایہ کھڑا تھا — مسکراتا ہوا۔ زیبا کی پرچھائی شاید ہمیشہ کے لیے اپنے کمرے میں واپس جا چکی تھی… یا شاید اگلے مکین کا انتظار کر رہی تھی۔
Comments
Post a Comment