اندھی کھڑکی – حصہ سوم: آخری سایہ
یہ ایک پرانا قصبہ تھا، جس کا نام ڈھوک سائیں دادا تھا۔ چھوٹا سا گاؤں، پُراسرار خاموشی میں ڈوبا ہوا، جیسے وہاں وقت تھم گیا ہو۔ اس گاؤں کے ایک کونے میں ایک قدیم قبرستان تھا، جس کے بارے میں لوگوں کا کہنا تھا:
> "وہاں قبریں نہیں صرف دروازے ہیں۔ جو ایک بار کھل جائیں... وہ دوبارہ بند نہیں ہوتے۔"
فائزہ ایک 22 سالہ لڑکی تھی، جو لاہور کی ایک یونیورسٹی میں علمِ آثارِ قدیمہ کی طالبہ تھی۔ وہ ایک تحقیقی مقالے پر کام کر رہی تھی: "پنجاب کے متروک قبرستان اور ان کے اساطیری پہلو"۔
اسے ڈھوک سائیں دادا کے قبرستان کے بارے میں ایک پراسرار حوالہ ایک پرانی کتاب میں ملا، جس میں لکھا تھا:
> "وہاں ایک کتاب دفن ہے، جو لکھی گئی نہ تھی، صرف سنی گئی تھی۔"
فائزہ کا تجسس بڑھا، اور وہ گاؤں روانہ ہو گئی۔
گاؤں پہنچتے ہی لوگوں نے اسے خبردار کیا:
"اس قبرستان میں نہ جانا، بی بی۔ پچھلے سال ایک لڑکا گیا تھا۔ صرف اس کی آواز لوٹی ہے، جسم نہیں۔"
فائزہ نے سنا، لیکن مانا نہیں۔ وہ رات کو ٹارچ، نوٹ بک، اور آواز ریکارڈر لے کر قبرستان میں داخل ہوئی۔ وہاں کا ماحول عجیب حد تک خاموش تھا، جیسے ہر چیز سانس روک کر اسے دیکھ رہی ہو۔
ایک پرانی، کچی قبر کے پاس اسے ایک لکڑی کا صندوق ملا۔ اس کے اندر ایک کالے رنگ کی کتاب تھی، جس پر کوئی لفظ نہیں لکھا تھا۔ جیسے ہی اس نے کتاب کو ہاتھ لگایا، اسے کسی عورت کی سرگوشی سنائی دی:
"لَوٹ جا.. تُو وہ جانتی ہے، جو تجھے نہیں جاننا چاہیے.."
فائزہ نے گھبرا کر کتاب بند کر دی، اور فوراً قبرستان سے نکل آئی۔
اسی رات، فائزہ کے خواب میں ایک عورت آئی۔ لمبے بال، خون آلود لباس، اور سفید آنکھیں۔ وہ ہر رات قریب آتی گئی۔
دوسرے دن فائزہ نے کتاب دوبارہ کھولی۔ صفحہ خالی تھا، مگر اس کے کھولتے ہی دیواروں پر الفاظ ابھرنے لگے:
> "اس قبرستان میں جو دفن ہے، وہ صرف مُردے نہیں — وہ یادیں ہیں۔ جنہیں جوڑو، تو روحیں جاگ اٹھتی ہیں۔"
اب فائزہ کو خواب میں نہیں، جاگتے میں بھی وہ عورت نظر آنے لگی۔ کبھی آئینے میں، کبھی کھڑکی کے باہر، کبھی نوٹ بک میں خودبخود لکھتے الفاظ میں۔
ایک دن کتاب میں یہ جملہ ابھرا:
> "اگر تُو سب سچ جاننا چاہتی ہے، تو آخری قبر کھود۔ جہاں کوئی نام نہیں، بس ایک دراڑ ہے۔"
فائزہ واپس قبرستان گئی۔ آخری قبر کی طرف گئی۔ وہ قبر باقی قبروں سے مختلف تھی — کچی، دراڑ زدہ، جیسے اندر سے کوئی باہر نکلنے کی کوشش کر رہا ہو۔
اس نے قبر کھودنی شروع کی۔ جیسے ہی بیلچہ زمین میں لگا، ایک زوردار چیخ بلند ہوئی۔ زمین لرز گئی۔ قبر سے کوئی چیز باہر آئی — وہی عورت، جسے فائزہ خواب میں دیکھتی تھی۔
عورت نے فائزہ کو پکڑ کر کہا:
> "تو وہی ہے، جس نے میری کہانی پھر سے پڑھ لی۔ اب تجھے میرا انجام بھی جاننا ہو گا — اور میرا انجام... میرا آغاز بنے گا۔"
اگلی صبح، گاؤں والوں کو قبرستان کے باہر ایک اور قبر ملی۔ اس پر نہ کوئی کتبہ تھا، نہ نام۔ صرف ایک بند کتاب رکھی تھی — بالکل ویسی ہی، جیسی فائزہ نے قبر سے نکالی تھی۔
کہا جاتا ہے..
جو بھی وہ کتاب کھولتا ہے، اس کے سامنے خود کی ہی کہانی لکھنی شروع ہو جاتی ہے۔ لیکن اختتام ہمیشہ وہی ہوتا ہے:
"وہ واپس نہ آئی۔"
Comments
Post a Comment