اندھی کھڑکی – حصہ سوم: آخری سایہ
لاہور کی ایک مشہور شاہراہ پر رات کے وقت ایک اکیلا نوجوان، کامران، گھر جا رہا تھا۔ کامران کی طبیعت کچھ ٹھیک نہیں تھی، لیکن اسے جلدی گھر پہنچنا تھا۔
راستے میں اچانک اس نے دیکھا کہ ایک پرانا شخص اُس کے سامنے آیا۔ وہ شخص سادہ کپڑوں میں تھا، لیکن اس کی آنکھوں میں ایک عجیب سی چمک تھی۔
کامران نے سلام کیا، لیکن وہ شخص خاموش رہا۔ کچھ دیر بعد اس نے کامران کو ایک چھوٹا سا پرانا صندوق دیا اور کہا:
"یہ صندوق تمہیں بہت کام آئے گا، لیکن محتاط رہنا، یہ عام چیز نہیں۔"
کامران نے حیرت سے صندوق لیا اور وہ شخص غائب ہو گیا۔
گھر پہنچ کر کامران نے صندوق کھولا۔ اس میں ایک پراسرار کتاب تھی جس میں کئی اقسام کے جنات، بھوت، اور ان سے بچنے کے طریقے درج تھے۔
کامران نے کتاب کا مطالعہ شروع کیا اور پتہ چلا کہ اس کتاب میں ایسے کئی طریقے اور دعایں تھیں جو انسان کو جنات کے حملے سے بچا سکتی تھیں۔
رات کو کامران نے کتاب میں دی گئی ایک دعا پڑھی۔ اچانک گھر کا درجہ حرارت گر گیا، اور گھر میں کسی کی موجودگی کا احساس ہوا۔
کامران نے کھڑکی سے باہر دیکھا تو ایک سیاہ مخلوق گھوم رہی تھی۔ اس کی آنکھیں سرخ اور چمکتی ہوئی تھیں، اور وہ خاموشی سے کامران کو گھور رہی تھی۔
کامران نے جلدی سے کتاب کھولی اور پڑھنا شروع کیا۔ مخلوق گھبرا گئی اور غائب ہو گئی۔
کامران نے تحقیقات شروع کی کہ یہ صندوق اور کتاب کہاں سے آئی۔ اسے معلوم ہوا کہ یہ کتاب ایک قدیم روحانی بزرگ کی ہے جو جنات اور بھوتوں سے لڑائی میں ماہر تھا۔
اس بزرگ نے یہ کتاب ایک محفوظ جگہ پر چھپا دی تھی تاکہ اگر کوئی خطرہ ہو تو لوگ اسے استعمال کر سکیں۔
کچھ دنوں بعد کامران نے محسوس کیا کہ مخلوق صرف اس کے گھر میں نہیں، بلکہ اس کے پیچھے بھی آ گئی ہے۔ وہ سڑکوں، بازاروں اور ہر جگہ اس کی پیروی کر رہی تھی۔
کامران کی زندگی ایک خوفناک خواب بن گئی۔ وہ کتاب کے ذریعے خود کو اور اپنے خاندان کو بچانے کی کوشش کرنے لگا۔
کامران نے کتاب کی مدد سے ایک روحانی حلقہ بنایا اور مخلوق کو وہاں بند کرنے کی کوشش کی۔ چند گھنٹوں کی سخت جدوجہد کے بعد، وہ مخلوق گھبرا کر غائب ہو گئی۔
کامران نے فیصلہ کیا کہ وہ اس صندوق اور کتاب کو کسی محفوظ مقام پر رکھے گا تاکہ کوئی اور اسے نقصان نہ پہنچا سکے۔
یہ کہانی ہمیں یہ سکھاتی ہے کہ علم اور ایمان سے ہم ہر مشکل کا سامنا کر سکتے ہیں۔ خوفناک مخلوق سے بچنے کے لیے حکمت اور تدبیر ضروری ہے۔
Comments
Post a Comment