اندھی کھڑکی – حصہ سوم: آخری سایہ
میں پندرہ برس کی تھی جب امی نے آنکھیں موند لیں۔ ابو تو مجھے یاد ہی نہیں، وہ امی کے بتائے ہوئے قصوں میں تھے۔ ایک صبح ماموں نے کہا، "تمہاری ماں کے بعد تمہارا کوئی نہیں۔ میرے ساتھ دبئی چلو۔" ان کی آواز میں کوئی لچک نہ تھی۔ میں نے اپنی کتابیں، کپڑے، اور وہ گڑیا جو امی نے دی تھی، ایک پرانی سوٹ کیس میں بند کیے۔ ہوائی اڈے پر ماموں نے میرا ہاتھ پکڑا، جیسے ڈر ہو کہ میں بھاگ جاؤں گی۔ ہوا کے جھونکے نے میرے بالوں کو الجھا دیا، اور میں نے سوچا، "شاید یہ نئی زندگی کا آغاز ہے۔"
دبئی کی گرم ہوا نے مجھے پہلی بار چھوا تو میں نے اپنی ساڑی کو سر پر کس کر لپیٹ لیا۔ ماموں نے ایک اونچی عمارت کی طرف اشارہ کیا جہاں کھڑکیاں سورج کی کرنوں سے چمک رہی تھیں۔ "یہاں ہم رہیں گے،" انہوں نے کہا۔ لیکن وہاں پہنچتے ہی انہوں نے مجھے ایک کمرے میں بند کر دیا۔ دیواریں سفید تھیں، فرش پر ایک پتلی سی چٹائی بچھی تھی۔ کھڑکی نہیں تھی۔ دن گزرتے گئے، اور ماموں کم ہی ملتے۔ ایک شام وہ ایک لمبے قد کے حبشی مرد کے ساتھ آئے۔ اس کی آنکھیں گہری تھیں، جیسے سمندر کی گہرائی۔ ماموں نے کچھ کاغذات پر دستخط کیے، اور اس نے میری طرف دیکھا۔ میں نے اپنے کپڑے سمیٹے، دل کی دھڑکن کانوں تک پہنچ گئی۔
وہ حبشی، جسے سب "عبدال" کہتے تھے، مجھے اپنے گھر لے گیا۔ اس کا گھر چھوٹا تھا، لیکن صاف۔ ایک بوڑھی خاتون، جس کے بال سفید تھے اور ہونٹوں پر لکیریں، نے دروازہ کھولا۔ اس کی آنکھوں میں درد تھا۔ عبدال نے کبھی مجھے ہاتھ نہ لگایا۔ وہ صبح سویرے کام پر چلا جاتا، اور میں بوڑھی دایہ، "نورا"، کے ساتھ رہتی۔ نورا گونگی تھی، لیکن اس کے اشارے زبانیں بولتے تھے۔ جب عبدال دور ہوتا، وہ اپنی انگلیوں سے دیوار کی طرف اشارہ کرتی، پھر دوڑنے کی حرکت بناتی۔ اس کی آنکھیں کہتی تھیں، "بھاگ جا۔" لیکن میں کہاں جاتی؟ میرے پاس کوئی پاسپورٹ نہیں تھا، نہ پیسہ، نہ زبان کا علم۔ دبئی کی گلیاں اجنبی تھیں، اور ہر چہرہ ایک سوال بن کر گھورتا۔
ایک دن جب عبدال نے مجھے بازار سے لانے کو کہا تو نورا نے میرا ہاتھ پکڑ لیا۔ اس کی انگلیاں کانپ رہی تھیں۔ اس نے اپنی چادر کے نیچے سے ایک پرانا نقشہ نکالا، جس پر سرخ روشنائی سے ایک جگہ نشان زد تھی۔ میں نے حیران نظروں سے دیکھا تو اس نے میری ہتھیلی پر لکھا: "امن۔" پھر اس نے دروازے کی طرف دیکھا، جیسے کوئی سن رہا ہو۔ اس رات میں نے سوچا، "کیا یہ بھاگنے کا موقع ہے؟" لیکن جب میں نے عبدال کو کھانے کی میز پر دعا کرتے دیکھا، تو مجھے لگا کہ وہ بد روح نہیں۔ اس نے میری طرف کبھی غلط نظر سے نہ دیکھا۔ پھر ماموں نے کیوں بیچا؟
مہینے گزر گئے۔ ایک رات ماموں اچانک آ گئے۔ ان کی آنکھیں سرخ تھیں، اور بولنے کا انداز بدلا ہوا۔ "تمہیں یہاں سے لے جانا ہے،" انہوں نے کہا۔ نورا دیوار سے لگی کانپ رہی تھی۔ میں نے انکار کیا تو ماموں نے میرا بازو مروڑا۔ "تمہیں پتہ نہیں یہاں کیا ہوتا ہے؟" انہوں نے گھر کے پیچھے تہہ خانے کا دروازہ کھولا۔ سیڑھیاں تاریک تھیں۔ ہوا میں نمی تھی، اور ایک بدبو سی تیر رہی تھی۔ ماموں نے مجھے دھکا دیا۔ میں نے چلاتے ہوئے نورا کو دیکھا، جو آنسو بہا رہی تھی۔
تہہ خانے میں ایک بلب جلتا تھا، جس کی روشنی میں گرد کے ذرے ناچ رہے تھے۔ فرش پر پانی کے دھبے تھے، اور ایک کونے میں زنگ آلود زنجیریں پڑی تھیں۔ میرا دل دیواروں سے ٹکرا رہا تھا۔ ماموں نے کہا، "یہاں تمہاری سزا ہوگی۔" انہوں نے دروازہ بند کیا۔ میں نے دیواروں پر ہاتھ پھیرے، لیکن کوئی راستہ نہ تھا۔ کچھ دیر بعد سیڑھیوں سے آوازیں آنے لگیں۔ عبدال کی آواز تھی، جو ماموں سے الجھ رہا تھا۔ "تم نے وعدہ کیا تھا کہ اسے نقصان نہیں پہنچاؤ گے!" وہ چلا رہا تھا۔ پھر ایک دھماکا ہوا۔ خاموشی چھا گئی۔
دروازہ کھلا تو عبدال کھڑا تھا۔ اس کے ہاتھ میں چابی تھی، اور سینے پر خون کا دھبہ۔ اس نے مجھے باہر کھینچا۔ "تمہیں یہاں سے جانا ہوگا،" اس نے کہا۔ نورا باہر کھڑی تھی، اس کے ہاتھ میں ایک تھیلا تھا جس میں کچھ روپے اور نقشہ تھا۔ عبدال نے کہا، "یہ نقشہ تمہیں امن سنٹر لے جائے گا۔" میں نے اس کی طرف دیکھا، جو درد سے کراہ رہا تھا۔ "تم کیوں مدد کر رہے ہو؟" میں نے پوچھا۔ اس نے مسکراتے ہوئے کہا، "کیونکہ میں بھی کبھی تہہ خانے میں تھا۔"
نورا نے میرا ہاتھ چوما اور بھاگنے کا اشارہ کیا۔ میں نے پیچھے مڑ کر دیکھا: عبدال دیوار سے ٹیک لگائے زمین پر بیٹھا تھا۔ اس کی سانسیں بھاری تھیں۔ گلی میں داخل ہوتے ہی میں نے دوڑنا شروع کیا۔ ہوا نے میرے بالوں کو اڑا دیا، اور میری سانسوں نے دھول کے ذرے بنائے۔ نقشے پر لکھا ہوا پتا ایک مسجد کے پیچھے تھا۔ جب میں نے دروازہ کھٹکھٹایا، تو ایک عورت نے مجھے اندر کھینچ لیا۔ اس کی آواز میں ماموں جلی کا لہجہ نہیں تھا۔ "تم محفوظ ہو،" اس نے کہا۔
کئی سال بعد، جب میں نے امن سنٹر کی لائبریری میں عبدال کا نام اخبار میں دیکھا، تو میری سانسیں رک گئیں۔ ایک مختصر سی خبر تھی: "غیر قانونی تجارت کے خلاف مہم میں گرفتار افراد کی فہرست۔" اس کی تصویر میں وہی گہری آنکھیں تھیں۔ میں نے اخبار کو چھوڑ دیا۔ باہر بارش ہو رہی تھی، اور میں نے سوچا کہ تہہ خانے کی خاموشی نے مجھے سکھایا تھا کہ آواز کیسے ڈھونڈی جاتی ہے۔ نورا کا نقشہ اب بھی میرے پاس ہے، پرانا ہو کر پیلے ہو چکا۔ لیکن جب بھی میں اسے دیکھتی ہوں، مجھے اپنی ہتھیلی پر وہ لفظ محسوس ہوتا ہے: "امن۔"
Comments
Post a Comment