اندھی کھڑکی – حصہ سوم: آخری سایہ
زویا کو سالگرہ پر ایک قدیم آئینہ تحفے میں ملا — لکڑی کا فریم، عجیب سا کٹاؤ، اور شیشہ اتنا صاف کہ لگتا جیسے اندر کی دنیا سانس لے رہی ہو۔ تحفہ اُس کی نانی نے دیا، جنہوں نے کہا:
"یہ تمہاری پرانی نانی اماں کا ہے… کسی اور کو مت دینا، اور رات 12 بجے کبھی نہ دیکھنا۔"
زویا نے بات ہنسی میں ٹال دی۔
ایک رات، جب سب سو گئے، زویا نے بے خیالی میں گھڑی دیکھی:
11:59
اُس کا چہرہ آئینے میں تھا… مگر جب گھڑی نے 12:00 کیا، اُس کا عکس ہلنے لگا — پہلے آہستہ، پھر آنکھیں گھما کر مسکرایا۔
زویا نے چیخ کر آنکھیں بند کیں۔
آنکھ کھولیں تو عکس معمول پر تھا… یا شاید؟
اگلے دن زویا نے محسوس کیا کہ وہ خود کچھ عجیب ہو گئی ہے۔ آئینے میں دیکھے بغیر وہ خود کو پہچان نہ پاتی۔ پھر ایک دن اُس نے نوٹ کیا — اُس کا عکس اُسی لباس میں نہیں تھا جو وہ پہن رہی تھی۔
اور پھر… اُس نے دیکھا، آئینے میں کیمرہ کی طرف پچھلے دن کا منظر چل رہا تھا۔
آئینہ صرف عکس نہیں دکھا رہا تھا — وہ "وقت" دکھا رہا تھا… پیچھے کا، اور شاید آگے کا۔
ایک رات، زویا نے آئینے میں جھانکا تو اُس کا عکس مسکرایا، پھر کہا:
"اب تم باہر بہت دیکھ چکی ہو… اب میری باری ہے باہر آنے کی…"
اُس لمحے آئینے سے ایک ہاتھ باہر نکلا، زویا کا گلا دبایا، اور اسے اندر کھینچنے لگا۔
اُس نے مزاحمت کی، چیخی، لیکن کوئی نہ آیا۔
آخری لمحے میں… زویا آئینے کے اندر چلی گئی۔
صبح زویا کی ماں کمرے میں آئی تو زویا بالکل نارمل لگ رہی تھی — خوش، خاموش، فرمانبردار۔
مگر آئینے پر ایک خفیف سا دھندلا نقش باقی تھا — جیسے اندر کوئی چہرہ چیخ رہا ہو… آنکھیں پھیلائے، مدد مانگ رہا ہو۔
وہ اصل زویا تھی۔
کہتے ہیں ہر آئینہ ایک دروازہ ہوتا ہے۔ کچھ صرف عکس دکھاتے ہیں…
مگر کچھ کے پیچھے کوئی اور ہوتا ہے — جو صرف "تم" بننے کا انتظار کرتا ہے۔
کیا تم نے آج رات آئینے میں دیکھا؟
Comments
Post a Comment