اندھی کھڑکی – حصہ سوم: آخری سایہ
علی، ایک صحافی، ایک پراسرار حویلی میں جا کر لاپتہ ہو جاتا ہے۔ اس کا دوست زبیر، علی کی تلاش میں حویلی میں جاتا ہے اور روحانی قوتوں کی مدد سے علی کی روح کو آزاد کروا کر واپس لے آتا ہے۔ مگر علی اب بھی خاموش ہے، اور ہر رات کسی انجانی دہشت میں چیخ اٹھتا ہے۔
چاند کی روشنی مدھم ہو چکی تھی۔ فضا میں ایک غیر مرئی بوجھ سا محسوس ہو رہا تھا۔ علی جسمانی طور پر تو بچ گیا تھا، مگر اس کی روح ابھی بھی زخم خوردہ تھی۔ وہ بول نہیں سکتا تھا، صرف اشاروں سے بات کرتا تھا۔ زبیر نے کئی علماء اور روحانی عاملوں سے رابطہ کیا، مگر ہر کوئی کہتا:
"اس پر کسی ایسی روح کا سایہ ہے جس کا بدلہ ابھی باقی ہے۔"
ایک دن علی نے زمین پر کانپتے ہاتھوں سے ایک جملہ لکھا:
"اسے انصاف چاہیے۔ وہ مقتول نہیں.. مظلوم تھی!"
زبیر حیران رہ گیا۔ وہ عورت، جو ہر کسی کی روح قید کرتی، درحقیقت مظلوم تھی؟
زبیر نے فیصلہ کیا کہ وہ حویلی کی تاریخ کھنگالے گا۔
گاؤں کے سب سے بوڑھے شخص، بابا نذر، نے سن کر ایک سرد آہ بھری اور کہا:
"اس حویلی کی عورت کا نام آمنہ تھا۔ وہ نواب شرف الدین کی بیوی تھی۔ آمنہ بہت خوبصورت، نیک دل اور ماہر حکمت تھی۔ لوگ دور دور سے دوا لینے آتے تھے۔ نواب کو شک تھا کہ آمنہ کسی اور سے محبت کرتی ہے۔ ایک رات اس نے آمنہ پر جھوٹا الزام لگا کر اسے حویلی کے تہہ خانے میں زندہ جلا دیا۔"
بابا نذر کی آنکھوں میں آنسو آ گئے۔
"آمنہ کی چیخیں کئی دن سنائی دیتی رہیں۔ تب سے وہ روح بن گئی — نہ مجرم بنی، نہ معاف کر سکی۔"
زبیر کو سب کچھ سمجھ آ گیا تھا۔
اگلے ہی دن وہ، علی اور ایک عامل بزرگ کے ساتھ حویلی کے ملبے پر پہنچا۔ وہاں ایک مخصوص مقام پر عامل نے زمین کھدوائی، تو نیچے ایک چھوٹا سا کمرہ نکلا — وہاں ایک جلی ہوئی ہڈیوں کی باقیات تھیں، اور ساتھ ایک سونے کا لاکٹ جس میں ایک تصویر تھی — آمنہ کی۔
علی نے لاکٹ کو دیکھا، تو اچانک اس کی آنکھوں سے آنسو بہنے لگے۔ پھر پہلی بار، چھ ماہ بعد، اس نے کہا:
"وہ.. صرف سنا جانا چاہتی تھی۔"
عامل نے قرآن پاک کی تلاوت شروع کی، اور دعا کی کہ آمنہ کی روح کو انصاف اور سکون ملے۔
تب اچانک، فضا میں خوشبو پھیل گئی۔ وہی عورت — آمنہ — سفید لباس میں نمودار ہوئی، مگر اس بار اس کا چہرہ پر سکون تھا۔ اس کی آنکھوں میں شکرگزاری تھی۔ اس نے ایک لمحہ علی اور زبیر کو دیکھا، اور آہستہ آہستہ روشنی میں تحلیل ہو گئی۔
اب علی مکمل طور پر ٹھیک ہو چکا تھا۔ وہ بولنے لگا، ہنسنے لگا، اور زندگی میں واپس آ گیا۔
آج اس حویلی کی جگہ ایک چھوٹی سی یادگار بنی ہوئی ہے، جس پر صرف ایک جملہ لکھا ہے:
"جو سنی نہ گئی، وہ چیختی رہی۔ اور جو سمجھا گیا، وہ آزاد ہو گئی۔"
لیکن کچھ لوگ اب بھی کہتے ہیں، اگر تم انصاف کی آواز نہ سنو، تو انصاف لینے والی روحیں لوٹ آتی ہیں..
Comments
Post a Comment