اندھی کھڑکی – حصہ سوم: آخری سایہ
a
ایک دن کا ذکر ہے، جب ہلکی بارش ہو رہی تھی، آسمان پر گہرے بادل چھائے ہوئے تھے، اور ہواؤں میں کچھ عجب سی خوشبو گھلی ہوئی تھی۔ علی اور ثنا، دونوں کزن تھے اور بچپن سے ہی مہم جوئی کے شوقین تھے۔ ان کی عمر اب سولہ اور سترہ سال ہو چکی تھی، مگر تجسس اور حیرتوں کی دنیا سے ان کا رشتہ اب بھی بچپن جیسا ہی تھا۔
علی نے چھت کے کونے میں پڑے ایک پرانے صندوق کو دیکھا، جو ہمیشہ تالا لگا رہتا تھا۔ اس دن نہ جانے کیوں وہ صندوق کھلا ہوا تھا۔
“یہ صندوق کھلا کیسے؟” علی نے حیرت سے پوچھا۔
ثنا فوراً آئی اور دونوں نے مل کر ڈھکن اٹھایا۔ اندر ایک **چمکتا ہوا پرانا سا دروازہ** رکھا تھا — لیکن عجیب بات یہ تھی کہ وہ ایک دروازہ تھا، مگر اس کے پیچھے کچھ نہیں تھا، یعنی صرف دروازہ!
“یہ دروازہ یہاں کیسے آیا؟ اور یہ چمک کیوں رہا ہے؟” ثنا نے دروازے کو چھوتے ہوئے کہا۔
جونہی انہوں نے دروازے کو چھوا، اچانک ساری دنیا گھومنے لگی۔ لمحے بھر میں وہ دونوں ایک نئے، عجیب و غریب جنگل میں پہنچ گئے۔
یہ دنیا کچھ اور ہی تھی۔ درخت بول سکتے تھے، پتھر ہنس سکتے تھے، اور رنگ برنگے پرندے نظمیں گاتے تھے۔ ایک گول، سرخ ناک والا بونا ان کے پاس آیا اور بولا:
"خوش آمدید! تم وہی ہو جس کا انتظار تھا۔"
علی اور ثنا حیران رہ گئے۔
“انتظار؟ کس بات کا؟”
بونے نے کہا، “ہماری دنیا میں ایک کالا جادوگر ‘زلہاک’ آیا ہے، جو سب کچھ سیاہ کر رہا ہے۔ دریا خشک ہو رہے ہیں، خوشبوئیں ختم ہو رہی ہیں۔ صرف تم ہی اسے روک سکتے ہو!”
“ہم؟ مگر کیسے؟” دونوں نے ایک ساتھ کہا۔
“تمہیں تین جادوئی آزمائشوں سے گزرنا ہوگا، پھر ہی زلہاک کی طاقت ختم ہو سکے گی۔”
---
انہیں ایک غار میں لے جایا گیا جہاں چار مشعلیں جل رہی تھیں اور دیوار پر لکھا تھا:
*"اندھیروں کو ہرانے کے لیے، سچائی کی روشنی چنو۔"*
ان کے سامنے چار راستے تھے، لیکن صرف ایک صحیح تھا۔ باقی میں اندھیرا ہی اندھیرا۔
ثنا نے آنکھیں بند کر کے دل کی آواز سنی۔ “علی، دائیں طرف روشنی تھوڑی سی زیادہ ہے، شاید وہی راستہ ہے۔”
علی نے ہاں میں سر ہلایا اور وہی راستہ چنا — اور واقعی وہی صحیح تھا۔ روشنی پھیل گئی، غار روشن ہو گیا۔
اب ان کے سامنے ایک دریا آیا، جس پر لکڑی کا ایک کمزور پل تھا۔ بونا بولا:
“اس پل پر صرف وہی جا سکتا ہے جو اپنے ساتھی پر بھروسا کرے۔”
پل کی لکڑیاں الگ الگ ہل رہی تھیں، اور ایک وقت میں صرف ایک شخص گزر سکتا تھا۔
علی نے ثنا سے کہا، “تم پہلے جاؤ، میں تم پر بھروسا کرتا ہوں۔”
ثنا نے پل پار کیا اور علی کو ہمت دی۔ علی بھی کامیابی سے پار کر گیا۔ دریا کے پار پھول کھلنے لگے۔
آخرکار وہ زلہاک کے قلعے تک پہنچے۔ وہ ایک اونچا، کالا محل تھا۔ زلہاک نے قہقہہ لگایا:
“تم کیا مجھے روکنے آئے ہو؟”
علی نے کہا، “ہمیں ڈر نہیں لگتا!”
زلہاک نے آگ اگلتی تلوار نکالی، لیکن ثنا نے جادوئی درخت سے ملی ایک چھڑی نکالی جو ان کی آزمائشوں کے انعام کے طور پر ملی تھی۔
“یہ چھڑی صرف سچوں اور بہادروں کی بات سنتی ہے!” ثنا نے کہا۔
انہوں نے چھڑی کو آسمان کی طرف اٹھایا، تو بجلی چمکی اور روشنی کا گولہ زلہاک پر گرا۔ وہ چیخا اور دھواں بن کر غائب ہو گیا۔
بونا واپس آیا اور بولا، “تم نے ہماری دنیا بچا لی! اب تمہیں واپس جانا ہو گا، لیکن یاد رکھو، جب بھی دل صاف ہو اور ارادے مضبوط ہوں، جادو ہمیشہ ساتھ دیتا ہے اور جانتے ہو جادو کیا ہے؟“
"کیا ہے؟“ دونوں نے یک زبان کہا
"اصل جادو انسان کے اندر موجود طاقت اور ہمت ہوتی ہے جسے استعمال کر کے وہ دشمن کو زیر کر سکے۔ اسے استعمال کرکے انسان آسانی سے بڑی سے بڑی منزل بھی حاصل کر سکتا ہے۔ جادو کا دوسرا نام خود پر یقین ہے۔“
علی اور ثنا نے دروازے سے واپس قدم رکھا اور لمحے بھر میں واپس اپنی چھت پر آ گئے۔ سب کچھ ویسا ہی تھا — بارش، بادل، اور وہی پرانا صندوق… مگر اب وہ بند تھا۔
ثنا نے علی کی طرف دیکھا اور مسکرا کر کہا:
“کیا یہ سب خواب تھا؟”
علی نے آسمان کی طرف دیکھا۔ ایک جگمگاتا ستارہ ٹمٹما رہا تھا۔ “نہیں… یہ حقیقت تھی۔”
Comments
Post a Comment