اندھی کھڑکی – حصہ سوم: آخری سایہ
عنوان: سایہ
ایک چھوٹے سے قصبے میں ایک عورت رہتی تھی، نام تھا زہرہ۔ وہ خوش مزاج، سادہ طبیعت اور سب کے کام آنے والی تھی۔ اس کا شوہر یوسف ایک معمولی دکان چلاتا تھا، مگر دونوں میاں بیوی مطمئن زندگی گزار رہے تھے۔ ان کی شادی کو سات سال ہو چکے تھے، مگر اولاد نہ ہونے کی وجہ سے وہ اکثر پریشان رہتے۔
قصبے کی کچھ عورتیں زہرہ سے حسد کرتی تھیں، کیونکہ اس کی سادگی اور پاکیزگی سے سب متاثر ہوتے۔ ان ہی میں ایک عورت تھی رخسانہ، جو عاملوں کے چکر میں رہتی تھی۔ ایک دن اس نے دل میں حسد بھرا ارادہ کیا اور ایک جعلی عامل کے کہنے پر زہرہ پر کالا جادو کروا دیا۔
شروع میں زہرہ کو کچھ عجیب خواب آنے لگے۔ کبھی وہ سیاہ کپڑوں میں ملبوس کسی عورت کو دیکھتی، جو اس پر ہنستی اور غائب ہو جاتی۔ پھر اس کی طبیعت بگڑنے لگی۔ بھوک ختم ہو گئی، نیند اُڑ گئی، اور ہر وقت دل گھبرانے لگا۔ شوہر کو دکان پر نقصان ہونے لگا، اور دونوں میں جھگڑے شروع ہو گئے۔
ایک دن زہرہ مغرب کی نماز کے بعد بے ہوش ہو گئی۔ یوسف اُسے شہر کے ڈاکٹر کے پاس لے گیا، مگر کوئی بیماری تشخیص نہ ہوئی۔ پھر ایک بزرگ مولوی صاحب کے مشورے سے وہ ایک سچے اور نیک عالم کے پاس گئے۔
عالم نے زہرہ پر قرآن پڑھ کر دم کیا، اور بتایا:
"یہ شیطانی عمل ہے۔ تمہارے گھر پر سحر (کالا جادو) کیا گیا ہے۔ مگر گھبراؤ مت، قرآن کے نور سے ہر اندھیرا دور ہو سکتا ہے۔"
انہوں نے زہرہ کو وظیفے دیے:
روزانہ سورۃ البقرہ کی تلاوت
فجر کے بعد آیت الکرسی، سورۃ فلق، سورۃ ناس، سورۃ اخلاص 3-3 بار
باوضو رہنا
ہر کمرے میں اذان دینا
زہرہ نے مکمل یقین اور صبر کے ساتھ ان اعمال پر عمل شروع کیا۔ کچھ ہفتے بعد اس کی حالت بہتر ہونے لگی۔ خواب ختم ہو گئے، طبیعت سنبھلنے لگی، اور یوسف کی دکان بھی دوبارہ چل پڑی۔ کچھ مہینوں بعد زہرہ نے ایک بیٹے کو جنم دیا۔
رخسانہ کا انجام عبرتناک ہوا۔ اس کے اپنے گھر میں مسلسل جھگڑے اور بیماریوں نے ڈیرہ ڈال لیا۔ اسے آخر کار خود ماننا پڑا کہ اس نے جو کیا، اس کا خمیازہ اسے بھگتنا پڑا۔
زہرہ نے کبھی اس سے بددعا نہ کی، بس کہا:
"جس کے دل میں روشنی ہو، اس پر کسی سائے کا اثر نہیں ہوتا۔"
Comments
Post a Comment