اندھی کھڑکی – حصہ سوم: آخری سایہ
اب دو زویا تھیں… اور دونوں ایک جیسی۔
انعم ہر روز ان دونوں سے سوال کرتی، پر ان کے جوابات، انداز، اور یادیں تک ایک جیسی تھیں۔
لیکن ایک چیز مختلف تھی — آنکھیں۔
ایک زویا کی آنکھوں میں درد تھا، قید کا دکھ… اور دوسری کی آنکھوں میں سکون، مگر خالی پن۔
انعم کو سمجھ آ گیا — اصل زویا وہ ہے جو اندر کی اذیت ساتھ لائی ہے۔
انعم نے فیصلہ کیا — آئینہ ختم کرنا ہوگا۔ لیکن اُس نے ایک عامل بابا کو بلایا، جس نے کہا:
> "یہ آئینہ عام شیشہ نہیں… یہ 'عکس کی دنیا' کا دروازہ ہے۔ اگر اسے زبردستی توڑا گیا، تو جو اندر ہے، سب باہر آ جائے گا۔"
عامل نے عمل شروع کیا، زویا (عکس والی) نے روکنے کی کوشش کی، اور چیخ کر کہا:
"میں تم ہوں! مجھے ختم کیا تو تم بھی مر جاؤ گی!"
اصل زویا نے ایک لمحے کو کانپتے ہوئے کہا:
"میں مرنے سے نہیں ڈرتی… پر عکس بننے سے ضرور ڈرتی ہوں!"
عمل مکمل ہونے کے قریب تھا۔ شیشہ دھندلا ہونے لگا، اور عکس والی زویا کی چیخیں تیز ہو گئیں۔
تب اچانک… آئینہ چمکا — اور دونوں زویا ایک دوسرے کی طرف لپکیں۔
ایک منظر… ایک چیخ… اور آئینہ ٹوٹ گیا۔
ہر طرف خاموشی چھا گئی۔
کچھ دیر بعد جب دھواں چھٹا، صرف ایک زویا باقی تھی — آنکھوں میں درد، لیکن چہرے پر سکون۔
انعم نے آہستہ سے پوچھا:
"تم… تم کون ہو؟"
زویا نے مسکرا کر کہا:
"جس نے زندہ رہنے کا حق کمایا…"
اور چل دی۔
لیکن… جب وہ آئینے سے گزری، اُس کی پرچھائیں… پیچھے نہیں آئیں۔
گھر کے ایک کونے میں، ٹوٹے آئینے کا ایک چھوٹا سا ٹکڑا آج بھی رکھا ہے۔
کبھی کبھی، وہ خودبخود چمک اٹھتا ہے۔
اور اس میں ایک چہرہ…
آہستہ آہستہ باہر آنے کی کوشش کرتا ہے۔
یہ اختتام نہیں… صرف وقفہ ہے۔
کیونکہ عکس کبھی مرتے نہیں —
وہ بس اگلے چہرے کا انتظار کرتے ہیں…
Comments
Post a Comment