اندھی کھڑکی – حصہ سوم: آخری سایہ
قبرستان کے نگہبان بابا قاسم نے چالیس سال اسی سنسان زمین پر گزارے تھے۔
وہ ہر قبر کا نمبر جانتا تھا۔ ہر مٹی کے نیچے دفن راکھ اور ہڈی کی پہچان رکھتا تھا۔
لیکن ایک قبر تھی جو اسے ہمیشہ بے چین کرتی تھی:
قبر نمبر 319۔
یہ قبر نہ زیادہ پرانی تھی، نہ نئی۔
اس پر نہ کوئی کتبہ تھا، نہ نام، نہ تاریخ۔
بس ایک مٹی کی ڈھیری، جو ہمیشہ گیلی اور نرم لگتی تھی… جیسے وہ ابھی کھودی گئی ہو۔
بابا قاسم نے نئی روشنیوں کا انتظام کیا، کیونکہ قبرستان کے کچھ حصے بہت تاریک ہو چکے تھے۔
جب اس نے قبر نمبر 319 کے قریب بلب لگایا — بلب تین بار جھپکا… اور پھوٹ گیا۔
وہ پھر نیا بلب لایا۔یہ بلب لگا، جلا، لیکن قبر کے اوپر ایک سایہ سا نظر آیا — جیسے کوئی بیٹھا ہو۔
بابا قاسم نے آنکھیں رگڑیں۔ سایہ غائب۔
"نظر کا دھوکہ ہے،" اس نے خود سے کہا۔
لیکن دل میں ہول اٹھا۔
بارش ہوئی تھی۔ قبرستان کی مٹی میں نمی تھی۔
بابا قاسم رات کو پہرہ دے رہا تھا، جب اس نے واضح طور پر سنا:
"خراش.. خراش.. خراش.."
جیسے کوئی قبر کے اندر سے مٹی کو کھرچ رہا ہو۔
319۔
بابا قاسم کے ہاتھ سے لالٹین گر گئی۔
وہ قریب گیا۔
آہستہ آہستہ۔ قدموں کو گھسیٹتے ہوئے۔
قبر کے کونے پر بیٹھا، ہاتھ رکھا — مٹی ہل رہی تھی۔
تھوڑی دیر بعد، ایک انگلی باہر نکلی۔
کالی، سڑی ہوئی، لمبے ناخن والی انگلی۔
بابا قاسم کے ہوش اُڑ گئے۔
وہ بھاگا۔ لیکن اس کے پیچھے آواز آئی:
"قاسم… میں ابھی زندہ ہوں…"
بابا قاسم نے مولوی صاحب کو بلایا۔
"یہ قبر... یہ کسی انسان کی نہیں،" مولوی نے کہا۔
"یہاں جسے دفن کیا گیا، وہ مردہ نہ تھا۔"
"یہ قبر اس کی قید ہے۔ اور تم نے اسے جگا دیا۔"
قاسم نے ہانپتے ہوئے پوچھا، "کیا کریں؟"
مولوی نے آنکھیں بند کیں۔ کچھ دیر خاموشی رہی۔
"اب کچھ نہیں۔ دیر ہو چکی ہے۔"
قبر کھل چکی تھی۔
319 کی مٹی بکھری ہوئی تھی۔
اندر کچھ نہ تھا۔
نہ کفن، نہ ہڈیاں — بس کالی انگلیوں کے نشان… اور زمین پر خون کی لکیر، جو قبر سے نکل کر مسجد کی دیوار تک گئی تھی۔
مسجد کی دروازے پر کسی نے ناخن سے لکھا تھا:
"قبر میری تھی، اب دنیا تمہاری نہیں۔"
بابا قاسم لاپتہ ہو گیا۔
کسی نے اسے آتے جاتے نہ دیکھا۔
قبرستان بند تھا، لیکن 319 کے قریب رات کو کسی کے ہنسنے کی آواز سنائی دیتی تھی۔
مدھم، سرد، اور خنجر جیسی آواز:
"میں زندہ دفن تھی… اب تم سب مرو گے…"
آج بھی اگر کوئی قبر نمبر 319 کے پاس رات کو جائے — تو مٹی ہلتی ہے۔
شاید کوئی پھر سے باہر آنا چاہتا ہے۔
شاید وہ پہلے سے باہر آ چکی ہے…
اور اگلی قبر… شاید تمہاری ہو۔
Comments
Post a Comment