اندھی کھڑکی – حصہ سوم: آخری سایہ

Image
 اندھی کھڑکی – حصہ سوم: آخری سایہ پہلا منظر – دو سال بعد دو سال گزر چکے تھے۔ نانی کا گھر بیچ دیا گیا۔ مگر اب، شہر میں، ایک نیا فلیٹ — "گل ریذیڈنسی" — میں پراسرار واقعات شروع ہو گئے۔ کمرے میں چیزیں خودبخود گرنے لگیں، آئینے دھندلا جاتے، اور سب سے زیادہ خوفناک بات — بچوں کے ہاتھوں پر "G" لکھا ہوا ملتا۔ اس فلیٹ میں ایک نیا جوڑا شفٹ ہوا: ڈاکٹر ہمایوں اور اس کی بیوی ریحانہ، جو ایک بچے کے منتظر تھے۔ ریحانہ کو ہر رات خواب آتا: > "ایک کھڑکی… خون… اور ایک لڑکی جو چیخ رہی ہے: 'مجھے مت کھولو… مجھے مت دیکھو… وہ دیکھ رہا ہے…'" --- اندھی کھڑکی کا نیا روپ: ریحانہ نے فلیٹ کے اسٹور روم کی صفائی کی۔ وہاں ایک پرانی لکڑی کی کھڑکی پڑی تھی — زمین سے نکلی ہوئی، جیسے کسی قبر سے نکالا گیا ہو۔ کھڑکی پر دھند سے لکھا تھا: > "یہاں روشنی نہیں، صرف یادیں باقی ہیں" ریحانہ کو کھڑکی دیکھ کر چکر آنے لگا، اور اسی رات بچے کی حرکت رک گئی۔ ڈاکٹرز حیران: "بچہ زندہ ہے… لیکن ماں کے پیٹ میں ساکت، جیسے کوئی اسے روک رہا ہو!" --- علیزہ واپس آتی ہے…؟ ڈاکٹر ہمایوں کی بہن...

عنوان: قبر نمبر 319

 عنوان: قبر نمبر 319



قبرستان کے نگہبان بابا قاسم نے چالیس سال اسی سنسان زمین پر گزارے تھے۔

وہ ہر قبر کا نمبر جانتا تھا۔ ہر مٹی کے نیچے دفن راکھ اور ہڈی کی پہچان رکھتا تھا۔


لیکن ایک قبر تھی جو اسے ہمیشہ بے چین کرتی تھی:

قبر نمبر 319۔


یہ قبر نہ زیادہ پرانی تھی، نہ نئی۔

اس پر نہ کوئی کتبہ تھا، نہ نام، نہ تاریخ۔

بس ایک مٹی کی ڈھیری، جو ہمیشہ گیلی اور نرم لگتی تھی… جیسے وہ ابھی کھودی گئی ہو۔


پہلی رات:


بابا قاسم نے نئی روشنیوں کا انتظام کیا، کیونکہ قبرستان کے کچھ حصے بہت تاریک ہو چکے تھے۔


جب اس نے قبر نمبر 319 کے قریب بلب لگایا — بلب تین بار جھپکا… اور پھوٹ گیا۔



دوسری رات 


وہ پھر نیا بلب لایا۔یہ بلب لگا، جلا، لیکن قبر کے اوپر ایک سایہ سا نظر آیا — جیسے کوئی بیٹھا ہو۔


بابا قاسم نے آنکھیں رگڑیں۔ سایہ غائب۔


"نظر کا دھوکہ ہے،" اس نے خود سے کہا۔


لیکن دل میں ہول اٹھا۔


تیسری رات:


بارش ہوئی تھی۔ قبرستان کی مٹی میں نمی تھی۔

بابا قاسم رات کو پہرہ دے رہا تھا، جب اس نے واضح طور پر سنا:


"خراش.. خراش.. خراش.."


جیسے کوئی قبر کے اندر سے مٹی کو کھرچ رہا ہو۔


319۔


بابا قاسم کے ہاتھ سے لالٹین گر گئی۔


چوتھی رات:


وہ قریب گیا۔

آہستہ آہستہ۔ قدموں کو گھسیٹتے ہوئے۔


قبر کے کونے پر بیٹھا، ہاتھ رکھا — مٹی ہل رہی تھی۔


تھوڑی دیر بعد، ایک انگلی باہر نکلی۔


کالی، سڑی ہوئی، لمبے ناخن والی انگلی۔


بابا قاسم کے ہوش اُڑ گئے۔


وہ بھاگا۔ لیکن اس کے پیچھے آواز آئی:


"قاسم… میں ابھی زندہ ہوں…"


پانچویں رات:


بابا قاسم نے مولوی صاحب کو بلایا۔


"یہ قبر... یہ کسی انسان کی نہیں،" مولوی نے کہا۔

"یہاں جسے دفن کیا گیا، وہ مردہ نہ تھا۔"


"یہ قبر اس کی قید ہے۔ اور تم نے اسے جگا دیا۔"


قاسم نے ہانپتے ہوئے پوچھا، "کیا کریں؟"


مولوی نے آنکھیں بند کیں۔ کچھ دیر خاموشی رہی۔


"اب کچھ نہیں۔ دیر ہو چکی ہے۔"


چھٹی رات:


قبر کھل چکی تھی۔


319 کی مٹی بکھری ہوئی تھی۔

اندر کچھ نہ تھا۔

نہ کفن، نہ ہڈیاں — بس کالی انگلیوں کے نشان… اور زمین پر خون کی لکیر، جو قبر سے نکل کر مسجد کی دیوار تک گئی تھی۔


مسجد کی دروازے پر کسی نے ناخن سے لکھا تھا:


"قبر میری تھی، اب دنیا تمہاری نہیں۔"


ساتویں رات:


بابا قاسم لاپتہ ہو گیا۔


کسی نے اسے آتے جاتے نہ دیکھا۔

قبرستان بند تھا، لیکن 319 کے قریب رات کو کسی کے ہنسنے کی آواز سنائی دیتی تھی۔


مدھم، سرد، اور خنجر جیسی آواز:


"میں زندہ دفن تھی… اب تم سب مرو گے…"



آج بھی اگر کوئی قبر نمبر 319 کے پاس رات کو جائے — تو مٹی ہلتی ہے۔


شاید کوئی پھر سے باہر آنا چاہتا ہے۔


شاید وہ پہلے سے باہر آ چکی ہے…


اور اگلی قبر… شاید تمہاری ہو۔

Comments

Popular posts from this blog

طلاق: ایک غمگین حقیقت کی کہانی

### **عنوان: "درخت کے نیچے قبر ہے"**

سایہ جو کبھی نہ ہٹا