اندھی کھڑکی – حصہ سوم: آخری سایہ
دو سال گزر چکے تھے۔ عامر کی گمشدگی کے بعد اس کا بھائی، حیدر، اس کی تلاش میں نکلا۔ عامر کا آخری سراغ صرف وہی کیمرہ تھا جو اندھیرا نگر کے باہر ملا تھا۔
حیدر کو یقین تھا کہ اس کا بھائی زندہ ہے… یا کم از کم، اس کی روح پکار رہی ہے۔
حیدر رات کے وقت گاؤں میں داخل ہوا۔ سڑکیں ویران تھیں۔ پرانے درخت ہوا میں شور مچا رہے تھے۔ اس بار گاؤں میں ایک نیا نشان نظر آیا — ہر دیوار پر لال رنگ سے ایک ہی جملہ لکھا تھا:
حیدر نے اس پر توجہ نہ دی اور عامر کے بتائے گئے مکان میں چلا گیا۔
رات کے وسط میں، حیدر نے خواب دیکھا۔ عامر ایک تاریک سرنگ میں بندھا ہوا تھا، اور ایک سیاہ عورت اس کے اردگرد چکر لگا رہی تھی۔
عامر نے حیدر کو دیکھا اور آہستہ کہا:
"وہ مجھے جگا چکی ہے… مگر تم اب بھی جا سکتے ہو… واپس مڑ جاؤ!"
حیدر کی آنکھ کھلی — اور کمرے کا دروازہ خودبخود کھل چکا تھا۔
گاؤں کے ایک پرانے مدرسے میں حیدر کو ایک کتاب ملی۔ عنوان تھا:
اس میں لکھا تھا کہ اندھیرا نگر کبھی ایک خوشحال بستی تھی۔ مگر ایک رات، ایک عورت — زویا — کو بےگناہ جادوگرنی سمجھ کر زندہ جلایا گیا۔
اس کی آخری بددعا تھی:
"جو بھی سونے کے بعد یہاں جاگے گا، وہ میری دنیا میں قید ہو جائے گا۔"
حیدر نے وہی سرنگ تلاش کی جو عامر کے خواب میں دیکھی تھی۔ آخرکار وہ تابوت تک پہنچ گیا — مگر اب وہ خالی تھا۔
فضا میں آواز گونجی:
ایک زور دار چیخ کے ساتھ، زمین ہلنے لگی۔ دیواروں سے سائے نکلنے لگے۔ حیدر کے اردگرد ہر چہرہ عامر کا تھا… مگر وہ سب مسخ شدہ، خالی آنکھوں والے۔
اب کہتے ہیں اندھیرا نگر میں دو بھائیوں کے سائے ہر رات دیواروں پر چلتے ہیں۔ جو بھی ان سے سوال پوچھے، وہ خود جواب بن جاتا ہے۔
ایک نیا جملہ ہر دروازے پر لکھا ہے:
Comments
Post a Comment