اندھی کھڑکی – حصہ سوم: آخری سایہ
![]() |
| حضرت یعقوب علیہ السلام |
مفسرین فرماتے ہیں کہ حضرت یعقوب علیہ السلام چالیس سال تک نابینا رہے! چالیس سال وہ رات دن روتے رہے، ایک بزرگ عمر رسیدہ اور نابینا، جنہوں نے اپنے دو بیٹے کھو دیے، وہ غم میں ڈوبے ہوئے، پریشان حال اور مغموم، ہر لمحہ رو رہے تھے اور کہتے تھے:
👈 "میں اپنی پریشانی اور غم کا شکوہ صرف اللہ سے کرتا ہوں" (سورۃ یوسف: 86)
یہ آیت دل پر گہرا اثر ڈالتی ہے۔
👈 "میں اپنی پریشانی اور غم کا شکوہ صرف اللہ سے کرتا ہوں"۔
ایک رات حضرت یعقوب علیہ السلام سجدے میں تھے اور شدید گریہ کر رہے تھے، اور بار بار کہہ رہے تھے:
"اے میرے رب، کیا تُو میری کمزوری پر رحم نہیں کرتا؟ اے میرے رب، کیا تُو میری ضعیفی پر رحم نہیں کرتا؟ اے میرے رب، کیا تُو میری بڑھی عمر پر رحم نہیں کرتا؟ اے میرے رب، کیا تُو میری عاجزی پر رحم نہیں کرتا؟ اے میرے رب، کیا تُو میری تنگدستی پر رحم نہیں کرتا؟"
اللہ تعالیٰ فرماتا ہے: "اور ان کی آنکھیں غم سے سفید ہوگئیں اور وہ اپنے غم کو دل میں چھپائے ہوئے تھے" (سورۃ یوسف: 84)
اللہ نے ان پر وحی کی: "اے یعقوب! میری عزت اور جلالت کی قسم، اگر یوسف مر چکا ہوتا تو میں اسے تیرے لیے زندہ کر دیتا"۔
پھر دوسرے دن انہیں خوشخبری ملی اور انہوں نے فرمایا: "کیا میں نے تم سے نہیں کہا تھا کہ میں اللہ کی طرف سے وہ جانتا ہوں جو تم نہیں جانتے" (سورۃ یوسف: 96)۔
چاہے کتنی ہی بڑی آزمائشیں آئیں، چاہے کتنا ہی غم اور فکر ہو، چاہے کتنی ہی مشکلیں آ جائیں، کبھی بھی اللہ کی رحمت سے مایوس نہ ہوں۔
اے اللہ! ہم تجھ سے ایسی خوشی مانگتے ہیں جیسی خوشی حضرت یعقوب علیہ السلام کو اپنے بیٹے کی واپسی پر ملی تھی۔
good story every person read this post and write comment
ReplyDelete