اندھی کھڑکی – حصہ سوم: آخری سایہ
![]() |
| معاشرہ |
وہ ایک سرکاری دفتر میں ملازم تھا ، آج صبح
جب سبزی لے کر وہ گھر جا رہا تھا تو ایک اور
سبزی والے سے دام پوچھنے پر پتا چلا کہ وہ تو
سبزی مہنگے داموں خرید رہا ہے۔خیر گھر پہنچا
سبزی نکالی تو پتا چلا کہ دوکاندار نے آدھی سبزی
تو گلی سڑی ڈال دی ہے۔وہ سخت غصے کے عالم
میں تیار ہو کر دفتر پہنچا ، تو ایک ٹھکیدار اپنا کوئی
بل ٹھیک کروانے کے لیئے آ گیا ، وہ شخص سبزی والے
کی وجہ سے پہلے ہی غصے میں بیٹھا تھا ٹھیکدار سے
بولا تمھارا بل ٹھیک نہیں ہو سکتا۔
ٹھیکدار نے رشوت کی پیشکش کی تو وہ سوچنے
لگا کہ اگر سبزی والا دو نمبری کر سکتا ہے تو میں
کیوں نہیں۔ چناچہ اُس نے پیسے لیئے اور بل ٹھیک کر دیا۔
وہ ٹھکیدار رشوت دے کر اپنے آفس پہنچا وہ اِن
دنوں اپنے ایک کلائنٹ کا گھر تعمیر کر رہا تھا اُس
نے کلائنٹ کو کال کی اور کہا کہ سیمنٹ اور سریا
کم پڑ گیا ہے مزید پیسے کی ضرورت ہے، حالانکہ
سیمنٹ اور سریا پہلے ہی مناسب مقدار میں
موجود تھا۔ اُس کا کلائنٹ جو ایک ڈاکٹر تھا وہ
سمجھ گیا کہ ٹھکیدار دو نمبری کر رہا ہے، لیکن
وہ کیا کر سکتا تھا اُس کے پاس اتنا ٹائم نہیں
تھا کہ وہ اپنا کلینک بھی چلائے اور کنٹرکشن کا
کام بھی دیکھے لہذا اُس نے پیسے بھجوا دیئے۔
اتنے میں اُس کے کلینک میں ایک مریض آیا جسے
صرف کھانسی کی شکایت تھی لیکن ڈاکٹر نے
اُسے کئی طرح کے ٹیسٹ لکھ دیئے اس ہدایت
کے ساتھ کے یہ ٹیسٹ کروانے بھی اُسی کی
لیبارٹری سے ہیں
وہ بے چارہ مریض کئی ہزار روپے خرچ کر کے
آخر میں کھانسی کا شربت لے کر گھر چلا آیا۔
گھر جاتے ہوئے وہ ڈاکٹر کو کوستا رہا اُسے پتا
تھا کے ڈاکٹر نے مال بنانے کے لیئے اتنے ٹیسٹ
لکھ کر دیئے تھے۔
اُس کے گھر کے نیچے ایک دوکان تھی جو اُس
نے کرائے پر دے رکھی تھی۔ گھر میں داکل ہونے
سے پہلے وہ دوکان کے پاس رُکا اور دوکاندار کو
کہا اگلے مہنے سے کرایہ بڑھ جائے گا مہنگائی بہت
بڑھ گئی ہے۔
اور یہ دوکاندار وہ ہی سبزی والا تھا۔
اگر معاشرہ ٹھیک کرنا ہے تو پہلے خود کو ٹھیک
کرنا ہو گا باقی سب کُچھ خودبخود ٹھیک ہوجائے گا۔
آپ اس بارے میں کیا کہتے ہیں ؟؟
Good 👍
ReplyDelete