اندھی کھڑکی – حصہ سوم: آخری سایہ
اکلاپا
شادی کے دن جوں جوں قریب آرہے تھے پیا ملن کی خوشی اس کے نکھار میں اضافہ کرتی جا رہی تھی۔۔
آنے والے سہانے دنوں کے رنگین سپنوں میں کھوئی وہ گھر بھر میں چہکتی پھرتی، پاوں زمین پر ٹکتے نہ تھے چلتی تو یوں لگتا جیسے ہواوں میں اڑنے لگی ہو۔۔۔
یہ پیا ملن کی خوشی بھی کتنی خوبصورت ہوتی ہے ۔ایک نئی زندگی کا سہانا سفر اپنے من پسند ہمسفر کے ساتھ طئے کرنے کی سوچ ہی اسے سرشار کئے دے رہی تھی۔ آخر کار بابل انگنا سے وداع کی گھڑی بھی آن پہنچی۔
آج اس کے سپنوں کا راجکمار اسے لینے آ گیا تھا۔
کلاہ باندھے، اس کے عروسی لباس کے ہم رنگ شیروانی میں ملبوس دلہا جب سٹیج پر آیا تو ہم جولیوں نے اسے حسرت بھری نگاہ سے دیکھا۔ لجائی شرمائی دلہن کو اپنے راجکمار کے پہلو میں بٹھایا گیا۔ تو خوشی اور حیا کے امتزاج سے اس کے سرخ گال مزید سرخ ہو گئے۔ رسومات کی ادائیگی کے بعد دلہن کو قرآن اور والدین و بزرگوں کی دعاوں کے سائے میں رخصت کر دیا گیا۔
اپنے سجے سنورے کمرے میں اسے اجنبیت کا کوئی احساس نہیں ہوا اور ہوتا بھی کیوں کہ یہ اب اس کا گھر تھا۔۔جسے اس نے اپنے ہمسفر کے ساتھ سجانا سنوارنا تھا۔
دونوں نے قدم قدم پہ ایک دوسرے کا ساتھ دینے اور باہمی ہم آہنگی سے گھر کو جنت بنانے کے عہدوپیمان کئے اور یوں ایک نئے اور سہانے سفر کا آغاز کیا۔۔
اس کے ہم سفر نے اسے عزت اور مان دیا تو اس نے بھی ان محبتوں کی لاج رکھنا اپنا فرض اولین سمجھا۔ ساس ،سسر ،دیور ،نندیں سب سے عزت اور پیار سے پیش آتی رہی اور بدلے میں محبت وصول بھی کی مگر۔۔۔۔۔۔
ابھی دو ماہ بھی نہ گزرے تھے کہ زندگی بھر ساتھ نبھانے کا وعدہ کرنے والے ہمسفر نے مزید تعلیم کے حصول کیلئے بیرون ملک جانے کیلئے رخت سفر باندھ لیا۔۔۔پھولوں کی طرح کومل چہچہاتی لڑکی ایک دم مرجھا سی گئی۔ابھی تو قربت کے لمحوں کا پورا مزہ بھی نہ چکھا تھا، ابھی تو زندگی کی خوبصورتی سے لطف کشید ہی نہ کیا تھا کہ جدائی کی نوید سنا دی گئی۔۔
اس نے بہت کوشش کی اپنے ہم سفر کو منا لے کہ وہ اسے یوں تنہا چھوڑ کر نہ جائے کہ زندگی کی ساری خوبصورتی صرف اسے کے دم سے ہی تو تھی۔
اسے معلوم تھا دلہا کے کئی دوست اپنی فیملیز کے ساتھ اس نئے دیس میں رہتے ہیں اور خود اس کے اپنے شریک سفر نے اسے بتایا تھا کہ فیملی کو ساتھ رکھنا ہرگز مشکل نہیں مگر وہ اسے ساتھ کے جانے کو تیار نہ ہوا۔۔۔
تمہاری نوکری کا کیا بنے گا ؟ وہ بولا
میں چھوڑ دوں گی، مجھے نہیں چاہیئے یہ نوکری ۔۔مجھے بس صرف تمہارے ساتھ رہنا ہے۔ وہ روہانسی ہو گئی تھی
مگر نوکری چھوڑنا کوئی عقلمندانہ فیصلہ نہیں۔۔وہ بولا
میں کون سا کوئی لاکھوں کما رہی ہوں جو چھوڑنا مشکل ہو۔۔بمشکل یہی پچیس تیس ہزار ماہانہ۔۔۔میں دس ہزار میں بھی گزارا کر لوں گی مگر تمہارے بغیر نہیں رہ پاوں گی۔۔۔۔
مگر پگلی تمہاری سرکاری نوکری ہے اور پھر مستقل۔۔۔یوں لگی لگائی روزی پہ لات مارنے کوئی دانشمندی نہیں۔۔
مگر روزی رزق تو اللہ کے ہاتھ میں ہے ، یوں بھی معاش تمہاری ذمہ داری ہے میری تو نہیں۔۔۔اس نے احتجاج کیا
وہ خاصی دیر تک روتی رہی اپنے پیار کرنے والےشوہر کو احساس دلاتی رہی کہ اسے اس کےساتھ اور قربت کی کتنی ضرورت ہے مگر سب بےسود۔۔۔
ہوا وہی جو زندگی بھر ساتھ دینے کا وعدہ کرنے والے نے ٹھان لی تھی۔۔وہ چلا گیا اپنی نئی نویلی دلہن کو انتظار کی سولی پہ لٹکتا چھوڑ کر۔۔۔۔۔اسے تنہائی کی اذیت دے کر ۔۔۔اور وہ کہہ بھی نہیں سکتی کچھ کیوں کہ سننے والے انگلی منہ میں داب کر کہتے ہیں۔۔۔
کیا جوانی سنبھالی نہیں جا رہی اس سے۔۔۔توبہ توبہ ۔۔کیا زمانہ آ گیا ہے۔۔ بےحیا لڑکیاں اب اپنے منہ سے کہتی ہیں کہ وہ اپنے شوہروں کے بغیر نہیں رہ سکتیں۔۔۔
او بی بی ساری دنیا کی لڑکیاں رہتی ہیں اکیلی تم کیاانوکھی ہو۔۔۔ صبر کرو ایسی بھی کیا آگ لگی ہے تجھے۔۔۔
کتنے ہی گھروں کی کہانی ہے یہ۔آپ بھی جانتے ہوں گے ایسے کئی گھرانوں کو۔۔۔۔
اور کئی فتوے بھی نکال لاتے ہوں گے دیار غیر میں رہنے والے جوانوں کی جسمانی اور جذباتی کیفیت کے سلجھاو کیلئے۔۔۔۔پارسائی سے جسمانی ضرورت اور جبلی خواہش کی تکمیل کیلئے شارٹ ٹائم نکاح سے لانگ لائف نکاح ثانی کیلئے کئی جواز ہوں گے آپ کے پاس ،کئی دلیلیں ہوں گی۔۔
مگر کبھی اس لڑکی کے بارے میں بھی سوچا آپ سب نے۔۔؟
کچھ اندازہ بھی ہے اس کے کرب کا ،اذیت کا۔۔۔
نئی نویلی دلہن کو یوں انتظار کی سولی پہ لٹکا کر دیار غیر سدھارنے والوں نے کبھی یہ سوچا کہ وہ اسے کس جذباتی ، ذہنی اور جسمانی کرب میں مبتلا کر کے جا رہے ہیں ؟
مجھے آج تک سمجھ نہ آئی ان والدین کی جو اپنے بیٹوں کو بیاہنے کے فورا بعد دیار غیر بھیج دیتے ہیں۔
ایسا کیوں کرتے ہیں وہ۔۔۔اپنے بڑھاپے کی عمر کو پہنچ کر جب انہیں اپنے پارٹنر میں کچھ خاص دلچسپی نہیں رہتی تو انہیں لگتا ہے کہ ان کے بیٹے اور بہو کو بھی ایکدوسرے کے ساتھ کی ضرورت نہیں ہے۔
اکثر ایسا دیکھنے میں آیا ہے کہ بیٹا ملک سے باہر جا رہا ہے تو شادی کروا کر باہر بھیج دیا جاتا ہے کہ پاوں میں شادی کی یہ زنجیر اسے بہکنے سے روک لے گی۔۔۔
اب یہ زنجیر اسے بہکنے سے تو شاید نہیں روک سکتی مگر اس کی اور اس کی بیوی کی زندگی ضرور جہنم بنا سکتے ہیں۔۔۔
کیا ایسے والدین کو زرا سا احساس بھی ہے کہ کس نفسیاتی عارضے میں مبتلا کر دیتے ہیں وہ بہو اور بیٹے کو؟
یہ تصویر جو آپ دیکھ رہے ہیں محض ایک تصویر نہیں ایک جیتے جاگتے انسان کے اس درد کی کہانی ہے جسے ہمارے بڑے بزرگ شاید کبھی محسوس ہی نہیں کر پاتے۔۔
یا شاید محسوس کر کے بھی انجان بنے رہنے کی اداکاری کرتے ہیں۔
کھلے دروازے اور خالی کرسی کو حسرت سے تکتی یہ عروسی لباس میں
ملبوس "لڑکی" اکلاپے کی جس اذیت سے گزر رہی ہوتی ہے کیا واقعی اس کے گھر کے بڑے (ازدواجی تعلقات میں بندھے ،اس کی ضرورت کو سمجھنے اور سرشاری کی لذت سے واقف) اس درد، اس تکلیف، اس اذیت سے انجان ہوتے ہیں یا جان بوجھ کر ان دیکھا کرتے ہیں؟
یہ اب آپ ہی بتائیے ؟؟
Nice 🙂
ReplyDelete