اندھی کھڑکی – حصہ سوم: آخری سایہ
![]() |
| دُکھوں اور پریشانیوں کا علاج |
دُکھوں اور پریشانیوں کا علاج
ایک درویش کے پاس ایک نوجوان آیا اور سوال کیا کہ بابا
جی میں اپنی زندگی سے بہت پریشان ہوں براہ مہربانی
مجھے اس پریشانی سے نکلنے کا طریقہ بتائیں درویش نے
اس نوجوان کا سوال سن کر
اس سےکہا بیٹا پانی کے گلاس میں ایک مٹھی نمک ڈالو
اور اسے پیو نوجوان نے ایسا ہی کیا پانی میں نمک ڈال کر
پیا تو درویش نے اس نوجوان سے پوچھا اس پانی کا ذائقہ
کیسا لگا ؟ نوجوان تھوكتے ہوئے بولا اس پانی کا بہت ہی خراب
ذائقہ ہے ایک دم کھارا درویش مسکراتے ہوئے بولا ایک بار پھر اپنے
ہاتھ میں ایک مٹھی نمک لو اور میرے پیچھے پیچھے آؤ دونوں
آہستہ آہستہ آگے بڑھنے لگے اور تھوڑی دور جا کر صاف پانی سے
بنی ایک جھیل کے سامنے رک گئے اور بولے چلو اب اس نمک کو پانی
میں ڈال دو درویش نے نوجوان کو جھیل میں نمک ڈالنے کی ہدایت
دی تو نوجوان نے ایسا ہی کیا جس کے بعد درویش فرمانے لگے کہ
اب اس جھیل کا پانی پیو نوجوان پانی پینے لگا ایک بار پھر درویش
نے پوچھا بتاؤ اس جھیل کے پانی کا ذائقہ کیسا ہے کیا اب بھی تمہیں
یہ پانی کھارا لگ رہا ہے ؟ نوجوان بولا نہیں یہ تو میٹھا ہے بہت اچھا
ہے درویش نوجوان کے پاس بیٹھ گئے اور اس کا ہاتھ تھامتے ہوئے بولے
زندگی کے دکھ بالکل نمک کی طرح ہوتے ہیں نہ اس سے کم نہ زیادہ۔
زندگی میں دکھ کی مقدار وہی رہتی ہے لیکن ہم کتنے دکھ کا ذائقہ
لیتے ہیں یہ اس پر منحصر ہے کہ ہم اسے کس کردار میں ڈال رہے ہیں
اس لئے جب تم دکھی ہو تو صرف اتنا کر سکتے ہو کہ خود کو بڑا کر لو
گلاس مت بنے رہو بلکہ جھیل بن جاؤ اللہ تبارک و تعالٰی مجھ بےصبرے
سمیت ہم تمام مسلمانان عالم کے اخلاق و کردار و أطوار و عادات
کو جھیل جیسا بنا دے۔!!!!
آمین ثم آمیــــــــــــــن یارب العالمین
Comments
Post a Comment