یہ کہانی ایسی مجبور ( بیوی بھابھی ، بہو ) سب رشتوں میں جکڑی ایک عورت کی ہے جس کا شوہر ظالم، ساس سانپ، نند اور دیور لومڑی کی طرح چالاک ، سسر ابلیس شیطان کی مانند تھا۔
ان سب ظلموں کو سہتے ہوئے خاموش آنسو بہا کر زندگی کی دوڑ میں یہ عورت صبر کر رہی تھی کیونکہ اسے اپنے رب پر پورا یقین تھا کہ اللّٰہ صبر کرنے والوں کے ساتھ ہے
کیا فرماتا ہے میرا رب:-
"اور تمہیں جو تکلیف پیش آئے اس پر صبر کرو ،بیشک یہ بڑی ہمت کا کام ہے
( القرآن) ( سورت لقمان آیت نمبر 17 )
ٹھوکر ان کو لگتی ہے جو اللّٰہ رب العزت پر یقین رکھتے ہیں جس سے اللّٰہ رب العالمین پر بھروسہ انہیں کبھی پستی میں گرنے نہیں دیتا۔اور روز آخرت اللّٰہ ظالموں سے حساب لینے والا ہے اور صابر لوگوں کو جنت میں
اعلیٰ مقام سے نوازنے والا ہے۔
اور یہ سب جو اس عورت پر ظلم کر رہے تھے وہ اپنے لیے جہنم کا گڑھ تیار کر رہے تھے اور دوسری جانب وہی عورت اسی گھر میں رہتے ہوئے ان کے ظلم کو سہتے ہوئے خاموش آنسو اللّٰہ کے سامنے بہا کر صبر کر رہی تھی اور جنت حاصل کر رہی تھی
یہ کہانی اگر آپ اب سننے کے لیے تیار ہیں یا پڑھنے کے لیے تیار ہیں تو میں یہ کہانی اس وقت سے شروع کر رہا ہوں جب یہ عورت اس دنیا میں آئی تھی اور عورت ہمیشہ اپنے والدین کے لیے میاں، بچوں کے لیے رحمت ہمت
اور جنت کا زریعہ ہوتی ہے
پاکستان کے ضلع ناروال میں اس باہمت بچی جس کا نام ندا ہے وہ اپنے والدین کے لیے رحمت بن کر اس دنیا میں آئی ۔ایک ایسے گھر میں آنکھ کھلی کی اس کے باپ ( امجد) اور ماں (پروین) کو بیٹیوں سے دنیا جہان سے زیادہ پیار تھا امجد کے دو بیٹے تھے جن کا نام وقار اور زیشان تھا اور اب پری جیسی ندا نے ان کے گھر آنکھ کھولی،ماں باپ کو بیٹی اور بھائیوں کو بہن مل گئ ۔امجد ایک غریب گھرانے سے تعلق رکھتا تھا لیکن بیٹی کے پیدا ہونے پر اتنا خوش تھا کہ اس نے جو پیسے جمع کیے تھے ان سب کی میٹھائی لے کر پورے محلے رشتےداروں میں تقسیم کی۔ اور ندا کے آنے کے ساتھ ہی امجد کے حالات بھی ٹھیک ہونے لگے
ندا سب کے لیے خوشیاں اور رحمت لے آئی تھی محلے کے سب لوگ ندا سے بہت پیار کرتے اور ندا جو مانگتی اسے لا کر دیتے اپنی اولاد اور ندا میں فرق نہیں کرتے تھے اس کی ایک وجہ یہ بھی تھی کہ ندا نہ صرف اپنے گھر والوں کے لیے بلکہ محلے والوں کے لیے بھی رحمت تھی جس سے سب کے مالی حالات ٹھیک ہو گئے تھے۔
ندا کے بھائی آپنی بہن کو ہمیشہ خوش رکھتے تھے کبھی کسی چیز سے انکار نہیں کرتے تھے سب کی لاڈلی جو تھی
ندا جب چار سال کی ہوئی تو امجد نے تعلیم کے حصول کے لیے ندا کو گاؤں میں موجود پرائیوٹ پرائمری سکول میں داخل کروا دیا ۔ندا ایک بہت ذہین اور رحمدل لڑکی تھی روزانہ پروین ندا کو اچھے سے تیار کرتی اور امجد سکول چھوڑنے جاتے دوپہر کو تازہ کھانا دینے جاتے اور چھٹی کے وقت لینے
جاتے اسطرح ندا نے پرائمری تعلیم حاصل کی اور ہر کلاس میں فرسٹ آئی۔ پرائیوٹ سکول کے پرنسپل نے امجد سے کہا ندا کو شہر میں ایک ناموار قابل ادراہ ہے وہاں ایڈمیشن کروائیں امجد مان گیا اور پرنسپل نے فیس میں کنسیشن کروا کر ندا کو اس میں سیکنڈری ایجوکیشن کے لیے داخل کروا دیا
شہر سے آنے جانے کے لیے بس لگوا دی
ندا بہت خوش تھی کہ وہ ایک دن ضرور پائلٹ بنے گئ اور فضاؤں میں راج کرے گئے ایک آزاد چڑیا بن کر جہاز اڑائے گئ جب بھی وہ پرندوں کو اڑتا
دیکھتی تو پرندوں سے باتیں کرتی ایک دن میں بھی پرواز کروں گی ۔
ندا صبح نماز ادا کرتی ہیں قرآن پڑھتی ہے اور اپنے باپ امجد کے پاس آ کر گود میں سر رکھ کر لیٹ جاتی ہے اور امجد کو تنگ کرنے لگتی ہے لکین امجد خوش ہوتا ہے پروین ندا کی ماں کہتی ہے کر لو مستیاں ایک دن جب شادی ہو جائے تو پھر تمہیں یہ دن یاد آئیں گئے اور سب سے زیادہ تمہارے باپ کو ہی تمہاری یاد آنی ہے
ندا اٹھ کر بیٹھ جاتی اور افسردہ سا منہ بنا لیتی ہے اور کہتی اماں کیا
تمہیں میری یاد نہیں آئے گئ
ماں چولہے سے اٹھ کر ندا کی پیشانی چومتی ہے اور کہتی ہے یہ کیسے ہو سکتا مجھے اپنی لخت جگر کی یاد نہ آئے سب افسردہ ہو جاتے ہیں اتنے میں بھائی بڑا وقار بولتا ہے ہاں سہی ہے آپ سب تو اس کو ہی پیار کرتے ہو ہمیں تو کرتے نہیں چھوٹا ذیشان مزاہیا موڈ میں کہتا ایک دن جب اس کی شادی ہو گئ تب ہمیں سکون ہو جانا
ندا پھٹ سے بولتی ہے ٹینشن نہ لو میں کوئی نہیں شادی وادی کروانی ۔ باپ سے کہتی ابو آپ۔ نہیں کروائیں گئے ناں ۔امجد کہتا نہی کروانی ہم نے ندا کو پاس ہی رکھنا،
ندا بھائیوں سے کہتی آپ کی جو بیویاں ہو گئ ان کو میں نے اچھا تنگ کرنا ہے پھر سمجھ آئے گئ آپ دونوں کو سب ہنسنے لگتے ہیں اتنے میں ماں کہتی چلو اٹھو تیار ہو جاؤ سکول کے لیے دیر ہو رہی ہے بس آ جانی ہے
ندا تیار ہوتی اور ناشتہ کرتی ہے اور اتنے میں سکول بس آ جاتی ہے ندا سکول کے لیے چلی جاتی ہے
ندا سکول میں اچھی محنت کرتی ہے اور اور کلاس میں فرسٹ پوزیشن لیتی ہے سب ٹیچر اور سکول کے باقی لوگ ندا پر فخر کرتے ہیں کہ ایک دن ندا سکول کا نام روشن کرے گئی
آٹھویں کلاس میں فرسٹ پوزیشن لینے کے ساتھ ہی ندا نہم میں ہو جاتی ہے اور اب ندا کا امتحان بھی سخت اور بورڈ کا تھا۔اور ضلع بھر کے بچوں سے مقابلہ تھا ۔
ندا گھر آتی ہے تو سب بہت خوش ہوتے ہیں اور ندا کے پاس ہونے پر میٹھائی تقسیم کرتے ہیں لیکن ندا اب تھوڑی پریشان لگتی ہے تب امجد کو محسوس ہوتا کہ ندا کو کوئی مسلہ ہے اس سے پہلے کبھی ندا اسطرح
پریشان نہیں ہوئی اور ندا کی ماں کو کہتا ہے ندا سے پوچھو کیا مسلہ ہے کیوں پریشان ہے بھائ بھی پریشان ہو جاتے ہیں کہ ندا کو کیا ہوا ہے ۔۔۔۔۔۔۔۔۔
اگلی ایپسوڈ میں۔اس کے نیچے اپلوڈ کی جائے گی
یہ تھا ندا کا کچھ تعارف کہ ہر بیٹی جب اپنے گھر ہوتی ہے تو اپنے باپ کے لیے رانی ہوتی ہے اور ہر باپ یہ چاہتا ہے کہ اس کی بیٹی کی ہر خواہش پوری ہو اور خوش رہے جس طرح امجد ندا کو خوش رکھنے کے لیے کرتا ہے لیکن جیسے ندا پریشان ہوتی وہ بھی پریشان ہو جاتا یہ کہانی ہر اس انسان کے لیے لکھی جا رہی ہے جو اپنی بیٹی کو رانی اور دوسروں کی بیٹی کو منحوس سمجھتا ہے ہر ایک کہ لیے اس میں سبق ہے ۔ جو ماں ہوتی وہی ساس اور جو باپ وہی سسر ، جو شوہر وہی بھائی،اور دیور ، بہن وہی نند ، لیکن سوچ تبدیل ہو جاتی۔
سب لائک، فالو اور کمنٹ کیا کریں یہ کاپی پیسٹ نہیں بلکہ محنت سے
لکھی جا رہی ہے۔ اس سے حوصلہ افزائی ہوتی
Nice
ReplyDeleteVery w
ReplyDelete