Posts

اندھی کھڑکی – حصہ سوم: آخری سایہ

Image
 اندھی کھڑکی – حصہ سوم: آخری سایہ پہلا منظر – دو سال بعد دو سال گزر چکے تھے۔ نانی کا گھر بیچ دیا گیا۔ مگر اب، شہر میں، ایک نیا فلیٹ — "گل ریذیڈنسی" — میں پراسرار واقعات شروع ہو گئے۔ کمرے میں چیزیں خودبخود گرنے لگیں، آئینے دھندلا جاتے، اور سب سے زیادہ خوفناک بات — بچوں کے ہاتھوں پر "G" لکھا ہوا ملتا۔ اس فلیٹ میں ایک نیا جوڑا شفٹ ہوا: ڈاکٹر ہمایوں اور اس کی بیوی ریحانہ، جو ایک بچے کے منتظر تھے۔ ریحانہ کو ہر رات خواب آتا: > "ایک کھڑکی… خون… اور ایک لڑکی جو چیخ رہی ہے: 'مجھے مت کھولو… مجھے مت دیکھو… وہ دیکھ رہا ہے…'" --- اندھی کھڑکی کا نیا روپ: ریحانہ نے فلیٹ کے اسٹور روم کی صفائی کی۔ وہاں ایک پرانی لکڑی کی کھڑکی پڑی تھی — زمین سے نکلی ہوئی، جیسے کسی قبر سے نکالا گیا ہو۔ کھڑکی پر دھند سے لکھا تھا: > "یہاں روشنی نہیں، صرف یادیں باقی ہیں" ریحانہ کو کھڑکی دیکھ کر چکر آنے لگا، اور اسی رات بچے کی حرکت رک گئی۔ ڈاکٹرز حیران: "بچہ زندہ ہے… لیکن ماں کے پیٹ میں ساکت، جیسے کوئی اسے روک رہا ہو!" --- علیزہ واپس آتی ہے…؟ ڈاکٹر ہمایوں کی بہن...

حضرت یعقوب علیہ السلام چالیس سال تک نابینا رہے!

Image
 حضرت یعقوب علیہ السلام مفسرین فرماتے ہیں کہ حضرت یعقوب علیہ السلام چالیس سال تک نابینا رہے! چالیس سال وہ رات دن روتے رہے، ایک بزرگ عمر رسیدہ اور نابینا، جنہوں نے اپنے دو بیٹے کھو دیے، وہ غم میں ڈوبے ہوئے، پریشان حال اور مغموم، ہر لمحہ رو رہے تھے اور کہتے تھے: 👈 "میں اپنی پریشانی اور غم کا شکوہ صرف اللہ سے کرتا ہوں" (سورۃ یوسف: 86) یہ آیت دل پر گہرا اثر ڈالتی ہے۔  👈 "میں اپنی پریشانی اور غم کا شکوہ صرف اللہ سے کرتا ہوں"۔ ایک رات حضرت یعقوب علیہ السلام سجدے میں تھے اور شدید گریہ کر رہے تھے، اور بار بار کہہ رہے تھے: "اے میرے رب، کیا تُو میری کمزوری پر رحم نہیں کرتا؟ اے میرے رب، کیا تُو میری ضعیفی پر رحم نہیں کرتا؟ اے میرے رب، کیا تُو میری بڑھی عمر پر رحم نہیں کرتا؟ اے میرے رب، کیا تُو میری عاجزی پر رحم نہیں کرتا؟ اے میرے رب، کیا تُو میری تنگدستی پر رحم نہیں کرتا؟" اللہ تعالیٰ فرماتا ہے: "اور ان کی آنکھیں غم سے سفید ہوگئیں اور وہ اپنے غم کو دل میں چھپائے ہوئے تھے" (سورۃ یوسف: 84) اللہ نے ان پر وحی کی: "اے یعقوب! میری عزت اور جلالت کی ...

How to Apply for CM Punjab Dhee Rani Program 2024

Image
Disclaimer: we just information & not affiliated any other program  CM PUNJAB DHEE RANI PROGRAM On the special instructions of Punjab Chief Minister Maryam Nawaz Sharif, the Punjab government has formally started the Dhee Rani program. The main objective of which is to help parents fulfill their social and religious responsibilities with dignity. Due to rising inflation and the prevailing economic situation and financial difficulties within the country, many poor and deserving parents were unable to arrange marriages for their daughters. And in view of this, this program has been started on the special instructions of Chief Minister Punjab, Maryam Nawaz Sharif. Under this program, the Punjab government will provide financial and social support to these new couples to make their weddings memorable. Financial support and gifts Under the program, every new couple will be given a salute of Rs 1 lakh through ATM so that they can start their new life better. In addition, each coupl...

اک چراغ جلتا ہے

Image
اک چراغ جلتا ہے   کل پھیکے کے گھر کے سامنے ایک نئی چمکتی ہوئی  گاڑی کھڑی تھی۔۔۔! سارے گاؤں میں اس کا چرچا تھا۔۔۔!  جانے کون ملنے آیا تھا۔۔۔! میں جانتا تھا پھیکا پہلی  فرصت میں آ کر  مجھے سارا ماجرا ضرور سناۓ گا۔۔۔!  وہی ہوا شام کو بیٹھک میں آ کر بیٹھا ہی تھا کہ پھیکا چلا آیا۔۔۔!  حال چال پوچھنے کے بعد کہنے لگا۔۔۔! صاحب جی کئی سال  پہلے کی بات ہے آپ کو یاد ہے ماسی نوراں ہوتی تھی جو  پٹھی پر دانے بھونا کرتی تھی۔۔۔! جس کا اِکو اِک پُتر تھا  وقار۔۔۔! میں نے کہا ہاں یار میں اپنے گاؤں کے لوگوں کو  کیسے بھول سکتا ہوں۔۔۔!  اللہ آپ کا بھلا کرے صاحب جی وقار اور میں پنجویں  جماعت میں پڑھتے تھے۔۔۔! سکول میں اکثر وقار کے ٹِڈھ  میں پیڑ رہتی تھی۔۔۔! صاحب جی اک نُکرے لگا روتا رہتا  تھا۔۔۔! ماسٹر جی ڈانٹ کر کار بھیج دیتے تھے کہ جا حکیم  کو دکھا اور دوائی لے۔۔۔! اک دن میں آدھی چھٹی کے وقت وقار کے پاس بیٹھا تھا۔۔۔! میں نے اماں کے ہاتھ کا بنا پراٹھا  اور اچارکھولا۔۔۔! صاحب جی آج وی جب کبھی بہت بھوک  لگتی ہے ن...

دنیا کا واحد گناہ جہالت ہے!

Image
"دنیا کا واحد گناہ جہالت ہے!" ‏ایک چھوٹا لڑکا بھاگتا ھوا "شیوانا" (قبل از اسلام ایران کا ایک مفکّر) کے پاس آیا اور کہنے لگا..  "میری ماں نے فیصلہ کیا ھے کہ معبد کے کاھن کے کہنے پر عظیم بُت کے قدموں پر میری چھوٹی معصوم سی بہن کو قربان کر دے.. آپ مہربانی کرکے اُس کی جان بچا دیں.." شیوانا لڑکے کے ساتھ فوراً معبد میں پہنچا اور کیا دیکھتا ھے کہ عورت نے بچی کے ھاتھ پاؤں رسیوں سے جکڑ لیے ھیں اور چھری ھاتھ میں پکڑے آنکھ بند کئے کچھ پڑھ رھی ھے..  بہت سے لوگ اُس عورت کے گرد جمع تھے . اور بُت خانے کا کاھن بڑے فخر سے بُت کے قریب ایک بڑے پتّھر پر بیٹھا یہ سب دیکھ رھا تھا..  شیوانا جب عورت کے قریب پہنچا تو دیکھا کہ اُسے اپنی بیٹی سے بے پناہ محبّت ھے اور وہ بار بار اُس کو گلے لگا کر والہانہ چوم رھی ھے.  مگر اِس کے باوجود معبد کدے کے بُت کی خوشنودی کے لئے اُس کی قربانی بھی دینا چاھتی ھے. شیوانا نے اُس سے پوچھا کہ وہ کیوں اپنی بیٹی کو قربان کرنا چاہ رھی ھے..  عورت نے جواب دیا..  "کاھن نے مجھے ھدایت کی ھے کہ میں معبد کے بُت کی خوشنودی کے لئے اپنی عزیز ترین ھستی...

معاشرہ

Image
 معاشرہ وہ ایک سرکاری دفتر میں ملازم تھا ، آج صبح  جب سبزی لے کر وہ گھر جا رہا تھا تو ایک اور  سبزی والے سے دام پوچھنے پر پتا چلا کہ وہ تو  سبزی مہنگے داموں خرید رہا ہے۔خیر گھر پہنچا  سبزی نکالی تو پتا چلا کہ دوکاندار نے آدھی سبزی  تو گلی سڑی ڈال دی ہے۔وہ سخت غصے کے عالم  میں تیار ہو کر دفتر پہنچا ، تو ایک ٹھکیدار اپنا کوئی  بل ٹھیک کروانے کے لیئے آ گیا ، وہ شخص سبزی والے  کی وجہ سے پہلے ہی غصے میں بیٹھا تھا ٹھیکدار سے  بولا تمھارا بل ٹھیک نہیں ہو سکتا۔   ٹھیکدار نے رشوت کی پیشکش کی تو وہ سوچنے  لگا کہ اگر سبزی والا دو نمبری کر سکتا ہے تو میں  کیوں نہیں۔ چناچہ اُس نے پیسے لیئے اور بل ٹھیک کر دیا۔  وہ ٹھکیدار رشوت دے کر اپنے آفس پہنچا وہ اِن  دنوں اپنے ایک کلائنٹ کا گھر تعمیر کر رہا تھا اُس  نے کلائنٹ کو کال کی اور کہا کہ سیمنٹ اور سریا  کم پڑ گیا ہے مزید پیسے کی ضرورت ہے، حالانکہ  سیمنٹ اور سریا پہلے ہی مناسب مقدار میں  موجود تھا۔ اُس کا کلائنٹ جو ایک ڈاکٹر تھا وہ  سمجھ گیا کہ ٹھکید...

دلہن کے خواب

Image
اکلاپا شادی کے دن جوں جوں قریب آرہے تھے  پیا ملن کی خوشی اس کے نکھار میں اضافہ کرتی جا رہی تھی۔۔ آنے والے سہانے دنوں کے رنگین سپنوں میں کھوئی وہ گھر بھر میں چہکتی پھرتی، پاوں زمین پر ٹکتے نہ تھے چلتی تو یوں لگتا جیسے ہواوں میں اڑنے لگی ہو۔۔۔ یہ پیا ملن کی خوشی بھی کتنی خوبصورت ہوتی ہے ۔ایک نئی زندگی کا سہانا سفر اپنے من پسند ہمسفر کے ساتھ طئے کرنے کی سوچ ہی اسے سرشار کئے دے رہی تھی۔ آخر کار بابل انگنا سے وداع کی گھڑی بھی آن پہنچی۔ آج اس کے سپنوں کا راجکمار اسے لینے آ گیا تھا۔ کلاہ باندھے، اس کے عروسی لباس کے ہم رنگ شیروانی میں ملبوس دلہا جب سٹیج پر آیا تو ہم جولیوں نے اسے حسرت بھری نگاہ سے دیکھا۔ لجائی شرمائی دلہن کو اپنے راجکمار کے پہلو میں بٹھایا گیا۔ تو خوشی اور حیا کے امتزاج سے اس کے سرخ گال مزید سرخ ہو گئے۔ رسومات کی ادائیگی کے بعد دلہن کو قرآن  اور والدین و بزرگوں کی دعاوں کے سائے میں رخصت کر دیا گیا۔ اپنے سجے سنورے کمرے میں اسے اجنبیت کا کوئی احساس نہیں ہوا اور ہوتا بھی کیوں کہ یہ اب اس کا گھر تھا۔۔جسے اس نے اپنے ہمسفر کے ساتھ سجانا سنوارنا تھا۔ دونوں نے قدم قدم پہ ...