اندھی کھڑکی – حصہ سوم: آخری سایہ
یہ کہانی لاہور کے مضافاتی علاقے کے ایک پرانے اسکول کی ہے۔ "گورنمنٹ گرلز ہائی اسکول، بیری والا" — جو برسوں سے بند پڑا تھا۔ لوگ کہتے تھے کہ یہاں کچھ ایسا ہوا تھا جس کے بعد کوئی بھی اس اسکول کے اندر قدم نہیں رکھتا۔
مگر کہانی شروع ہوتی ہے "فریحہ" سے، جو ایک نوجوان ٹیچر تھی۔ تعلیم مکمل کرنے کے بعد، اسے پہلا تقرر اسی اسکول میں ملا۔
فریحہ کو بتایا گیا:
"اس اسکول کی عمارت بند ہے، لیکن حکومت نے مرمت کا حکم دیا ہے۔ تم جا کر جائزہ لو اور رپورٹ دو۔"
فریحہ اسکول پہنچی۔ باہر سے دیکھنے میں عمارت بہت خستہ حال تھی — رنگ اُکھڑا ہوا، کھڑکیاں ٹوٹی ہوئیں، اور درختوں کی شاخیں چھت سے لٹک رہی تھیں۔ مگر فریحہ نڈر تھی۔
جیسے ہی وہ مرکزی دروازے سے اندر داخل ہوئی، ایک عجیب سی سرد ہوا چلی، جیسے کسی نے سانس لیا ہو۔
اسکول کے ہال میں داخل ہوتے ہی ایک گھنٹی لٹکی ہوئی نظر آئی — پرانی، زنگ آلود — جیسے برسوں سے بجی نہ ہو۔ مگر جیسے ہی فریحہ نے اندر قدم رکھا، وہ گھنٹی خودبخود بج اُٹھی۔
"ڈن۔۔۔ ڈن۔۔۔ ڈن۔۔۔"
فریحہ چونکی، لیکن خود کو سنبھالا۔
فریحہ اپنے ساتھ ایک مزدور لائی تاکہ عمارت کا معائنہ کرے۔ دونوں نے ایک ایک کمرہ کھولا — لیکن جیسے ہی وہ پرانا اسٹاف روم کھولنے لگے، اندر سے کسی کے رونے کی آواز آئی۔ مزدور بھاگ گیا۔
فریحہ نے اندر جھانکا تو کمرہ خالی تھا، لیکن بلیک بورڈ پر خون سے لکھا تھا:
"کلاس کبھی ختم نہیں ہوئی۔۔۔"
فریحہ نے مقامی لائبریری سے پرانے اخبارات نکالے۔ پتا چلا کہ 1997 میں ایک واقعہ ہوا تھا — ایک ٹیچر "مسز ناہید" نے اپنی پوری کلاس کو زہر دے کر مار دیا تھا، پھر خود کو پھانسی لگا لی۔ وجہ آج تک ایک راز تھی۔
تب سے اسکول بند تھا۔
فریحہ نے سوچا کہ آخری بار اسکول جا کر سب بند کر دے۔ وہ رات کو وہاں گئی تاکہ دن کی روشنی کے بغیر دیکھے، آیا خوف صرف دماغ کا وہم تھا یا کچھ اور۔
3 بجے رات — وہی گھنٹی دوبارہ بجی۔
"ڈن۔۔۔ ڈن۔۔۔ ڈن۔۔۔"
اس بار وہ خود بخود ایک کلاس روم میں چلی گئی۔ اندر 20 پرانی کرسیاں، ہر کرسی پر دھندلی سی بچیوں کی جھلک۔ سب کے چہرے سفید، آنکھوں سے خون۔
درمیان میں کھڑی تھی "مسز ناہید" — اس کے ہاتھ میں وہی زہریلی بوتل۔
"میری کلاس دوبارہ شروع ہو گئی ہے۔۔۔ اب تم نئی ٹیچر ہو۔۔۔ بیٹھ جاؤ۔۔۔"
فریحہ کی چیخ گونج کر گم ہو گئی۔
اسکول کی دیوار پر ایک نیا نام لکھا گیا:
"مس فریحہ – کلاس انچارج"
اور گھنٹی؟
ہر رات 3 بجے اب بھی بجتی ہے۔
یہ کہانی صرف سنائی جاتی ہے، مگر اسکول اب بھی وہیں کھڑا ہے — اور اگر آپ رات کے وقت گزریں، تو شاید آپ بھی وہ گھنٹی سن سکیں۔
Comments
Post a Comment