اندھی کھڑکی – حصہ سوم: آخری سایہ
نور محل کا چھت والا فلیٹ اب پولیس کے قبضے میں تھا، مگر کوئی افسر وہاں زیادہ دیر رک نہیں پایا۔ جو گیا، وہ یا تو بیمار ہو گیا، یا پھر ذہنی توازن کھو بیٹھا۔ کچھ نے تو وردی اتار دی۔
لیکن ایک دن، "ایمن" نامی لڑکی جو ایک صحافی تھی، نے اس فلیٹ کے بارے میں سن کر تفتیش کا فیصلہ کیا۔ اسے عالیہ اور شہریار کی پراسرار گمشدگی نے چونکا دیا تھا۔
ایمن نڈر تھی۔ وہ روحوں، جنات، یا سایوں پر یقین نہیں رکھتی تھی، بلکہ وہ حقائق کو کریدنے والی رپورٹر تھی۔ اُس نے مالکِ مکان سے رابطہ کیا، اور ضد کی کہ وہ اس فلیٹ میں ایک رات گزارنا چاہتی ہے۔
مالکِ مکان نے صاف لفظوں میں کہا:
"بیٹی، یہ جگہ صرف ایک فلیٹ نہیں، ایک قید خانہ ہے۔۔۔ یہاں صرف جسم نہیں، روحیں بھی بند ہو جاتی ہیں۔۔۔"
لیکن ایمن نہ مانی۔
اُسی رات، وہ اپنے کیمرے، ریکارڈر، اور نوٹ بک کے ساتھ فلیٹ میں داخل ہوئی۔ گھڑی میں رات کے 1 بج رہے تھے۔ وہ ہر کمرے کی ویڈیو بنا رہی تھی۔ اچانک اسے ایک فائل ملتی ہے، جو دیوار کی دراڑ میں دبی ہوئی تھی۔ اس پر مٹی جمی ہوئی تھی، لیکن نام صاف لکھا تھا:
"فرزانہ بیگم – 1978"
ایمن نے فائل کھولی — اور کہانی نے رخ بدلا۔
فلیش بیک – 1978
فرزانہ بیگم ایک نوجوان بیوہ تھی جو اپنے شیرخوار بچے کے ساتھ اسی فلیٹ میں رہتی تھی۔ بلڈنگ اس وقت نئی تھی، اور سب کچھ معمول کے مطابق چل رہا تھا۔ ایک دن کچھ لوگوں نے اس پر "چڑیل" ہونے کا الزام لگایا۔ انہوں نے کہا کہ اس کے بچے کی موت کا ذمہ دار کوئی اور نہیں بلکہ وہ خود ہے۔
لوگوں نے فرزانہ کو رات کے اندھیرے میں اسی فلیٹ میں زندہ جلا دیا۔
اس کی چیخیں، اس کا درد، اس کی بددعا — اسی فلیٹ کی دیواروں میں قید ہو گئیں۔
مرنے سے پہلے اس نے کہا تھا:
"جو میری جگہ لے گا، وہ میرے درد کا وارث بنے گا۔۔۔ جب تک کوئی میری سچائی دنیا کو نہ دکھائے، میں آزاد نہیں ہوں گی۔۔۔"
واپس حال میں
ایمن نے فائل پڑھ کر سب کچھ سمجھ لیا۔ عالیہ اور شہریار اس کا انتقام نہیں، بلکہ اس کے درد کا نشانہ بنے تھے۔ فرزانہ صرف چاہتی تھی کہ کوئی اس کی سچائی کو دنیا کے سامنے لائے۔
رات کے 3 بجے، وہی سایہ، وہی جلی ہوئی عورت، ایک بار پھر ظاہر ہوئی۔ مگر اس بار وہ خاموش تھی۔ اس کے آنکھوں میں وحشت نہیں، بلکہ انتظار تھا۔
ایمن نے وہ فائل اس کے قدموں میں رکھی اور کہا:
"تم مجرم نہیں تھی۔۔۔ تم ایک ماں تھی۔۔۔ تمہیں انصاف ملے گا۔۔۔"
اُسی لمحے، کمرے کی دیواریں لرزنے لگیں، فلیٹ کی فضاء روشن ہو گئی، اور سایہ آہستہ آہستہ روشنی میں تحلیل ہونے لگا۔ فرزانہ کی روح آزاد ہو چکی تھی۔
اگلی صبح، نور محل کے چھت والے فلیٹ میں پہلی بار دھوپ آئی — برسوں بعد۔
ایمن نے ایک ڈاکیومنٹری بنائی:
"فرزانہ کی کہانی: انصاف جو 45 سال بعد ملا"
عالیہ اور شہریار؟
وہ ایک سال بعد جنگل کے کنارے بے ہوش ملے — یادداشت جزوی طور پر ختم، مگر زندہ۔ جیسے کسی نے انہیں واپس کر دیا ہو، کیونکہ اُس کا کام مکمل ہو گیا تھا۔
اختتام
نور محل آج بھی وہیں ہے، لیکن اب اس کا چھت والا فلیٹ کھلا ہے، روشن ہے — کیونکہ جو قید تھا، وہ آزاد ہو چکا ہے۔
Comments
Post a Comment