اندھی کھڑکی – حصہ سوم: آخری سایہ
علی کو اس کے چچا نے ایک پرانا صوفہ تحفے میں دیا۔ چچا نے بتایا کہ یہ صوفہ ان کے دادا کا تھا اور اس میں کوئی خاص بات ہے۔ علی نے ہنستے ہوئے کہا،
"بس پرانا فرنیچر ہے، اور کیا؟"
لیکن جیسے ہی علی نے صوفے پر پہلی رات گزاری، اسے عجیب و غریب خواب آنے لگے۔
ہر رات علی خواب میں ایک سیاہ لباس پہنے شخص کو دیکھتا جو صوفے کے پاس کھڑا ہوتا۔ وہ شخص خاموش ہوتا، لیکن اس کی آنکھوں میں اداسی اور انتقام کی چمک ہوتی۔
علی کے خوابوں میں وہ شخص بار بار کچھ کہنے کی کوشش کرتا، مگر زبان سے کچھ نکلتا نہیں تھا۔ علی جاگ کر صوفے کو دیکھتا، تو وہ بھی ٹھنڈا محسوس ہوتا۔
کچھ دنوں بعد، گھر میں عجیب واقعات شروع ہو گئے۔ چیزیں اپنی جگہ سے ہٹ جاتی، صوفے کے نیچے سے سرسراہٹ کی آواز آتی، اور رات کو کوئی ہلکی سی موسیقی بجتی۔
علی نے اپنے دوست کو بتایا، جو کہ ایک چھوٹے سے روحانی ماہر تھا۔ دوست نے کہا،
"یہ صوفہ شاید کسی کی یادیں رکھتا ہے، شاید کوئی روح یہاں رہتی ہے۔"
علی نے صوفے کی تہہ کھولی تو اندر ایک پرانی لاٹھی اور ایک خط ملا۔ خط میں لکھا تھا:
"جو صوفے پر بیٹھے گا، وہ میری کہانی سنے گا اور میری سزا بھگتے گا۔"
علی ڈر گیا، مگر پھر ہمت کر کے دوبارہ وہ شخص خواب میں آیا اور اس نے کہا:
"میرے قصور کا بدلہ لو، ورنہ تم بھی اسی صوفے کا حصہ بن جاؤ گے۔"
علی نے دوست کی مدد سے ایک روحانی رسم کی۔ اس نے صوفے کو خاص پانی اور دعاؤں سے صاف کیا۔ رات کو جب وہ شخص پھر آیا، علی نے دعا کی اور صوفہ روشن ہو گیا۔
صبح علی نے دیکھا کہ صوفہ معمول کا ہو چکا ہے، اور خواب بھی ختم ہو گئے۔ لیکن صوفے کے نیچے سے ایک چھوٹا سا پتھر نکلا، جس پر لکھی تھی:
"شکریہ، مجھے آزاد کروانے کے لیے۔"
کبھی کبھی ہمارے آس پاس چیزیں ہوتی ہیں جو دیکھنے میں عام لگتی ہیں، مگر ان میں پوشیدہ کہانیاں اور جذبات ہوتے ہیں۔ ہمیں انہیں سمجھنے اور عزت دینے کی ضرورت ہے۔
Comments
Post a Comment