اندھی کھڑکی – حصہ سوم: آخری سایہ
راحت علی ایک نوجوان تھا جو لاہور کے ایک پرانے علاقے میں رہتا تھا۔ وہ ایک عام سا لڑکا تھا، جسے کتابیں پڑھنے اور پرانے مقامات کی کھوج لگانے کا شوق تھا۔ اس کا ایک دوست، عمران، اکثر اس کے ساتھ مختلف مہموں پر جایا کرتا تھا۔ ایک دن راحت کو ایک پرانی لائبریری کی کتاب میں ایک ایسا نقشہ ملا جس پر "کالا کمرہ" لکھا تھا۔
"یہ کیا ہے؟" عمران نے نقشے پر نظر ڈالتے ہوئے پوچھا۔
راحت نے آنکھوں میں چمک کے ساتھ جواب دیا، "یہ شاید کسی پوشیدہ کمرے کا پتہ ہے، جو اس علاقے کی پرانی کوٹھی میں چھپا ہے۔"
یہ کوٹھی برسوں سے خالی پڑی تھی، اور علاقے کے بزرگ اسے "بدروحوں کا مسکن" کہتے تھے۔ مگر نوجوان جوش میں تھے۔ انہوں نے فیصلہ کیا کہ اگلی رات اس کوٹھی کی کھوج لگائیں گے۔
اگلی رات دونوں دوست ٹارچ اور کیمرا لے کر کوٹھی پہنچے۔ کوٹھی کی کھڑکیاں ٹوٹی ہوئی تھیں، دروازے پر زنگ لگ چکا تھا اور اندر مکمل خاموشی تھی۔
"کیا تمہیں ڈر لگ رہا ہے؟" عمران نے دھیرے سے پوچھا۔
"تھوڑا سا، لیکن تجسس زیادہ ہے"، راحت نے مسکرا کر کہا۔
دونوں اندر داخل ہوئے۔ ہر قدم کے ساتھ فرش چرچراتا، دیواروں پر پرانی تصویریں تھیں جن کی آنکھیں جیسے ان کا پیچھا کر رہی ہوں۔ اچانک ایک بلی چیخی اور بھاگ گئی۔ عمران کا دل بیٹھ گیا، مگر راحت نے اسے تسلی دی۔
نقشہ انہیں ایک پرانے تہہ خانے کی طرف لے جا رہا تھا۔ جیسے ہی وہ نیچے اترے، ایک عجیب سی بو ان کا استقبال کرنے لگی۔ دیواروں پر خون کے دھبے تھے، اور ایک دروازے پر خون سے "واپسی ممکن نہیں" لکھا تھا۔
"شاید ہمیں واپس چلنا چاہیے"، عمران نے کہا، مگر راحت آگے بڑھ چکا تھا۔
دروازہ کھولا، تو ایک سیاہ کمرہ نظر آیا، بالکل سیاہ، جیسے روشنی وہاں پہنچ ہی نہ سکتی ہو۔ اندر داخل ہوتے ہی دروازہ خودبخود بند ہو گیا۔
اب وہ دونوں کمرے میں پھنس چکے تھے۔ ان کی ٹارچ بند ہو گئی، اور مکمل اندھیرا چھا گیا۔ اچانک ایک سرگوشی سنائی دی:
"تم نے اسے جگا دیا ہے"
راحت نے گھبرا کر عمران کا ہاتھ تھاما، مگر وہ غائب تھا۔
"عمران؟ عمران؟ کہاں ہو تم؟" وہ چلایا۔
مگر جواب میں صرف قہقہے سنائی دیے، بہت سے قہقہے، جن میں درد، غصہ، اور پاگل پن شامل تھا۔
کمرے میں ایک پرانی الماری تھی، جو اب آہستہ آہستہ کھلنے لگی۔ اندر ایک پرانا کتبہ تھا جس پر خون سے کچھ لکھا تھا:
"جو اسے جگائے گا، وہ خود نیند میں چلا جائے گا — ہمیشہ کے لیے۔"
اچانک راحت کی آنکھوں کے سامنے سب کچھ دھندلا ہونے لگا۔ اسے لگا جیسے کوئی اس کی روح کو جسم سے کھینچ رہا ہو۔ پھر ایک چیخ گونجی، اور سب کچھ خاموش ہو گیا۔
اگلی صبح، محلے کے لوگ کوٹھی کے سامنے اکٹھے تھے۔ دروازہ کھلا ہوا تھا، مگر اندر کوئی نہیں تھا۔ صرف ایک کیمرا زمین پر پڑا تھا، جس میں آخری ویڈیو ریکارڈ تھی۔
ویڈیو میں راحت چیخ رہا تھا، "یہ کمرہ زندہ ہے! یہ ہمیں نہیں جانے دے گا!"
اور آخر میں، ایک سایہ کیمرے کے قریب آیا، اور ویڈیو بند ہو گئی۔
آج بھی اگر کوئی اس کوٹھی کے قریب سے گزرے، تو اسے اندر سے سرگوشیاں سنائی دیتی ہیں۔ راحت اور عمران کا کچھ پتہ نہ چلا، اور "کالا کمرہ" آج بھی اپنا راز چھپائے بیٹھا ہے۔
کوئی کہتا ہے وہ دونوں مر چکے ہیں، کوئی کہتا ہے ان کی روحیں اب بھی وہاں قید ہیں۔
مگر سچ یہ ہ.. کہ کچھ دروازے کبھی نہیں کھولنے چاہییں۔
Comments
Post a Comment